واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)بوئنگ کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکی فضائیہ کے لیے تیار کیا جانے والا نیا F-47 چھٹی نسل کا لڑاکا طیارہ (NGAD) پہلے ہی پیداوار کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو ایک حیران کن دعویٰ ہے کیونکہ یہ پروگرام باضابطہ طور پر مارچ 2025 میں ہی عوام کے سامنے آیا تھا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی تیزی کے پیچھے کوئی جادو نہیں بلکہ طویل المدتی، خفیہ اور منظم تیاری کارفرما ہے۔
بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن دونوں نے باقاعدہ کنٹریکٹ ملنے سے کئی سال پہلے خفیہ تجرباتی طیارے تیار کیے اور ان کی آزمائشی پروازیں کیں۔
ان خفیہ پروازوں کے دوران سینکڑوں گھنٹے کی فلائٹ ٹیسٹنگ کے ذریعے اہم تکنیکی تصورات کو جانچا گیا اور بڑے تکنیکی خطرات کو پہلے ہی ختم کر دیا گیا۔
یہی وہ خاموش اور عوام کی نظروں سے اوجھل تیاری ہے جس نے 2028 سے پہلے F-47 کی پہلی پرواز کو ایک حقیقت پسندانہ ہدف بنا دیا ہے۔اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو F-47 مستقبل کے ہائی ٹیک دفاعی منصوبوں کے لیے ایک نیا ماڈل بن سکتا ہے کہ کس طرح مہنگے اور پیچیدہ عسکری پروگرام کم وقت میں مکمل کیے جا سکتے ہیں۔
نومبر 2025 میں دبئی ایئر شو سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بوئنگ ڈیفنس، اسپیس اینڈ سیکیورٹی کے صدر اور سی ای او اسٹیو پارکر نے امریکی فضائیہ کے نیکسٹ جنریشن ایئر ڈومیننس (NGAD) مقابلے میں کامیابی کو “انقلابی” قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کی حیران کن رفتار اس لیے ممکن ہوئی کیونکہ ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کنٹریکٹ ملنے سے پہلے ہی خاصی حد تک تیار ہو چکی تھی۔
اسٹیو پارکر نے اگرچہ کچھ اہم ٹائم لائنز پر بات کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے امریکی فضائیہ کے اس ہدف کی تصدیق کی کہ 2028 کے اختتام سے پہلے پہلی پرواز کا ارادہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا:“میں پہلی پرواز کی تاریخ پر بات نہیں کروں گا، فضائیہ نے تاریخ دے دی ہے۔ میری توجہ صرف عملدرآمد پر ہے، اور ہم اس وقت ایک مضبوط پوزیشن میں ہیں۔”
ماہرین کے مطابق اگر F-47 منصوبہ اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو یہ نہ صرف چین کے جدید J-20 اور J-35A کے لیے بڑا چیلنج بنے گا بلکہ عالمی فضائی طاقت کا توازن بھی بدل سکتا ہے۔







