تہران ( پاک ترک نیوز) امریکا-ایران جنگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی؟آبنائے ہرمز میں آگ، خلیج میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ۔مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر جنگ کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکا نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی کرتے ہوئے جنوبی ایران میں اسی سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے بھی بھرپور جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی مفادات پر حملوں اور امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ خلیج میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی امن، تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے خطرے کی نئی گھنٹی بجا دی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی کے دوران ایران کے کوسٹل سرویلنس سسٹمز، میزائل لانچنگ تنصیبات، اینٹی شپ کروز میزائل، ڈرون لانچ سائٹس اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ قشم جزیرے، سیریک اور بندر عباس میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ بندر عباس سے آگ کے بلند شعلے اٹھتے رہے۔ امریکی حملوں میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی ہیں۔ واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو اس کی ہر کارروائی کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے جبکہ بحرین اور کویت میں پچاسی امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا امریکا کو جواب ،ڈرون مار گرانے کا دعویٰ ،بحرین اور کویت میں حملے
ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان کا کہنا ہے کہ امریکی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور امریکا کو آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایرانی فوج کے مطابق ہرمز میں تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی محفوظ آمدورفت کا فیصلہ صرف ایران کرے گا۔
امریکی حملوں کے بعد ایران کے صدر مسعود پزشکیان عراق میں آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت ادھوری چھوڑ کر فوری طور پر وطن واپس پہنچ گئے، جہاں انہوں نے اعلیٰ عسکری اور قومی سلامتی حکام کے ساتھ ہنگامی مشاورت کی۔
سعودی عرب نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک سعودی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران فوری طور پر ایسے اقدامات بند کرے جو عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ریاض کا کہنا ہے کہ سعودی عرب عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں سمندری راستوں کے تحفظ اور تیل کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے گا۔
تاہم ایران نے قطر اور دیگر ممالک کی جانب سے جہازوں پر حملوں سے متعلق الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے پُرعزم ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے مطابق جہاز رانی کے ضوابط پر عملدرآمد چاہتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سخت لہجے میں کہا کہ غنڈہ گردی اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا، ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، جبکہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔
کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران پر تیل فروخت کرنے سے متعلق پابندیاں دوبارہ نافذ کرتے ہوئے جنرل لائسنس "ایکس” منسوخ کر دیا اور اس کی جگہ جنرل لائسنس "ایکس ون” نافذ کر دیا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ فیصلہ سات جولائی دو ہزار چھبیس سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی حالیہ کارروائیاں امریکا کے لیے ناقابل قبول ہیں اور تہران کو ان اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔












