واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی بحریہ کی نئی جوہری آباد دو ہزار اٹھائیس میں تیر ہو گی ، تاخیر کے بعد منصوبہ دوبارہ ٹریک پر آ گیا ۔
امریکی بحریہ کی اگلی اکیس ہزار ٹن وزنی جوہری طاقت سے چلنے والی بیلسٹک میزائل دو ہزار اٹھائیس آبدوز فراہم میں فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔
امریکی بحریہ کی نئی نسل کی جوہری طاقت سے چلنے والی بیلسٹک میزائل آبدوزوں کی تیاری کا منصوبہ اب ایک اہم سنگِ میل کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے تحت پہلی آبدوز کی فراہمی دو ہزار اٹھائیس میں متوقع ہے ۔
کمپنی جنرل ڈائنامکس کے مطابق اس کلاس کی پہلی آبدوز، جو اس وقت زیرِ تعمیر ہے، شیڈول میں تبدیلیوں کا شکار رہی، تاہم اب پیداوار کے مسائل بتدریج حل ہونے کے باعث پیش رفت مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس آبدوز کی فراہمی پہلے متوقع وقت سے پہلے ہونی تھی، لیکن تعمیر کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں کے باعث نئی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی۔ اہم پرزہ جات کی فراہمی میں مسائل اور آبدوز کے بڑے حصوں کی اسمبلنگ میں تاخیر اس تبدیلی کی بڑی وجوہات تھیں۔ ایسے مسائل بڑے دفاعی منصوبوں میں عام ہوتے ہیں، خاص طور پر جہاں جدید ٹیکنالوجی اور انتہائی مہارت طلب مینوفیکچرنگ شامل ہو۔
تاہم حالیہ اطلاعات کے مطابق صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ شپ بلڈرز نے سپلائرز کے ساتھ بہتر رابطہ کاری اور افرادی قوت کی کارکردگی میں اضافہ رپورٹ کیا ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ پرزے بروقت فراہم ہو رہے ہیں اور اسمبلنگ کا عمل بھی زیادہ تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
کمپنی کے صدر ڈٰنی دیپ نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ آف کولمبیا ایس ایس بی این ایس وقت جی ڈی الیکٹرک بوٹ میں تیار کی جا رہی ہے۔
یہ نئی آبدوزیں موجودہ پرانے بیڑے کی جگہ لیں گی، جو اس وقت امریکہ کی جوہری دفاعی صلاحیت کا ایک بڑا حصہ سنبھالے ہوئے ہے۔ آپریشنل ہونے کے بعد یہ آبدوزیں امریکہ کو سمندر میں مسلسل اور قابلِ اعتماد جوہری صلاحیت برقرار رکھنے میں مدد دیں گی۔ اسی اہمیت کے باعث اس پروگرام کو بحریہ کی جدیدکاری کی کوششوں میں اعلیٰ ترجیح حاصل ہے۔












