واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکا نے خاموشی سے ایک ایسا قدم اُٹھا لیا ہے، جس نے پوری دنیا کے اسٹریٹجک حلقوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔
جرمنی کے رامشٹائن ایئر بیس سے امریکی فضائیہ کے تین C-17 طیارے اُڑے اور جا کر اُترے ڈیگو گارشیا میں، وہ خفیہ امریکی اڈہ جسے مشرقِ وسطیٰ میں “سنجیدہ کارروائیوں کا نقطہ آغاز” کہا جاتا ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ کیوں منتقل ہوا؟ سوال یہ ہے کہ کیا منتقل ہوا ہے؟ امریکی فوج نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، لیکن دفاعی ماہرین ایک بات پر متفق ہیں کہ اگر ایران پر حملہ ہونا ہے تو اس کا پہلا بٹن یہیں سے دبایا جائے گا۔ اسی دوران ایک اور خطرناک پیش رفت۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا اچانک امریکا پہنچ چکے ہیں۔
میامی میں اہم ملاقاتیں، ٹرمپ کے قریبی نمائندوں سے رابطے، اور اطلاعات یہ بھی ہیں کہ مار-اے-لاگو میں ٹرمپ سے براہِ راست ملاقات ہو سکتی ہے۔
اسی دوران امریکا اپنا طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن جنوبی چین سمندر سے مشرقِ وسطیٰ کی طرف منتقل کر رہا ہے۔ فضائی دفاع، جنگی طیارے اور حتیٰ کہ آبدوزوں کی آمد کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔
دوسری طرف ایران مذاکرات کی پیشکش کر رہا ہے، لیکن اسرائیل کا ماننا ہے یہ صرف وقت حاصل کرنے کی چال ہے۔اور اب آتے ہیں سب سے چونکا دینے والے بیان پر۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر محسن رضائی نے کہا: “ایران، روسی برف کی طرح ہے جس میں ہٹلر کی فوجیں دفن ہو گئیں۔ جتنا ٹرمپ آگے بڑھے گا، اتنا ہی وہ دھنستا چلا جائے گا۔”
اب تصویر بالکل واضح ہے: خلیجی ممالک کہہ رہے ہیں حملہ مت کرو۔ نیتن یاہو کہہ رہا ہے ابھی نہیں۔ ایران کہہ رہا ہے مذاکرات کرو۔ اور امریکا؟ وہ بس ہتھیار منتقل کر رہا ہے۔












