لاہور( پاک ترک نیوز) امریکہ نے اب تک کتنے ملکوں سے جنگ کی ، کیا کھویا ،کیا پایا۔۔،،، ہم بتائیں گے آج کے اس پروگرام میں ۔۔۔۔ ویسے تو امریکہ کی جنگوں کی تاریخ بہت پرانی ہے ،مگر نائن الیون کے بعد اس میں شدت آ گئی ۔۔۔۔دو ہزار ایک سے آج تک امریکہ نے کم سے کم دس ملکوں کو جنگ میں جھونکا ، ، تین بڑی جنگیں لڑیں ۔۔۔کھربوں ڈالر خرچ کیے ،،،،
امریکہ کی جنگوں کا آغاز سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں کیا گیا ،سات اکتوبر دو ہزار ایک میں افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ۔۔۔۔ طالبان حکومت گرا دی گئی ،،پھر بی جنگ نہ رکی ۔امریکہ اور افغانستان کی جنگ دو لاکھ اکتالیس ہزار سے زائد افراد کی جانیں لے گئی۔ امریکہ بیس سال تک افغان جنگ میں پھنسا رہا ،،، پھر انخلاء سے ہی جان چھوٹی۔۔۔
اس کے بعد افغان طالبان دوبارہ اقتدار پر قابض ہو گئے۔
امریکہ نے دو ہزار تین میں صدام حسین پر مہلک ہتھیاروں کا الزام لگایا ،امریکی فوج نے عراق پر چڑھائی کی ۔۔۔ صدام حسین کو اقتدار سے ہٹا کر پھانسی دی گئی ،عراق جنگ کی وجہ سے داعش جیسی تنظیم نے جنم لیا ۔
باراک اوباما کے دور میں ڈرون حملوں کا دائرہ پاکستان، یمن اور صومالیہ تک پھیل گیا۔ 2011 ء میں لیبیا میں نیٹو مداخلت کے بعد معمر قدافی کا خاتمہ ہوا، مگر ملک خانہ جنگی میں ڈوب گیا۔
2014 ء کے بعد شام میں امریکہ نے جنگ چھیڑٰی ،پھر ایران کے ساتھ جنگ شروع کی گئی ۔۔۔ 2020ء میں قاسم سلیمانی کو ایک امریکی حملے میں ہلاک کیا گیا۔ اب پھر دو ہزار چھبیس میں ایران کو جنگ میں دھکیل دیا ، جس میں متحدہ عرب امارات ،قطر ، بحرین ،عراق اور دوسرے ممالک بھی زد میں آئے۔ ایران جنگ سے پہلے امریکہ نے وینز ویلا پر بھی حملہ کیا اور اس کے صدر کو اغوا کر کے اپنے ملک کی جیل میں قید کردیا ۔
اب سوال پیدا ہو تا ہے کہ امریکہ کب تک جنگیں لڑتا رہے گا ،ملکوں کو تباہ کرتا رہے گا ،کیا ان جنگوں سے دنیا میں امن قائم ہو گا ،یا پھر ایک اور جنگ عظٰیم کی ابتدا ہے ۔۔۔












