کراچی ( پاک ترک نیوز) سندھ بھر میں بغیر روٹ پرمٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹ کے چلنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا گیا ،صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہناہےصوبے بھر میں درست روٹ پرمٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر چلنے والی پبلک سروس گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے،ڈپٹی کمشنرز و چیئرمین ڈسٹرکٹ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز (ڈی آر ٹی اے) کو مراسلہ جاری کیا گیا،بڑی تعداد میں گاڑیوں کے روٹ پرمٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹس کی معیاد ختم ہو چکی ہے،متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام گاڑیاں موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 اور موٹر وہیکلز رولز 1969 کے تحت لازمی دستاویزات کے ساتھ ہی چلائی جائیں،روٹ پرمٹس اور فٹنس سرٹیفکیٹس کے اجرا کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
فٹنس سرٹیفکیٹس مکمل طور پر آن لائن جاری کیے جا رہے ہیں، بین الاضلاعی اور شہری روٹس کے پرمٹس بھی خودکار نظام کے ذریعے دیے جا رہے ہیں،جلد ہی مینیوئل روٹ پرمٹس کو ختم کرنے جا رہے ہیں،حکومت سندھ ٹرانسپورٹرز کو سبسڈی فراہم کر رہی ہے، یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ 27 فروری 2026 سے پہلے کا کرایہ ہی وصول کیا جائے گا، متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بعض ٹرانسپورٹرز زائد کرایہ وصول کر کے شہریوں کا استحصال کر رہے ہیں، متعلقہ حکام کو خصوصی چیکنگ مہم شروع کرنے اور بغیر درست روٹ پرمٹ یا فٹنس سرٹیفکیٹ کے چلنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے،تمام پبلک سروس گاڑیوں میں کرایہ نامہ نمایاں طور پر آویزاں کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں تاکہ عوام کو آگاہی حاصل ہو سکے، اسکول وینز اور بین الاضلاعی پبلک ٹرانسپورٹ میں سی این جی اور ایل پی جی کے استعمال پر پابندی پر سختی سے عمل کرانے کی ہدایت کی ہے۔






