اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) "آبنائے ہرمز بند،ایرانی سمندری حدود میں امریکا کی ناکہ بندی سے دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ،دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہ بند ہونے پر کشیدگی بڑھ چکی ہے ۔
آبنائے ہرمز میں امریکی محاصرہ آبنائے ہرمز کے مشرق میں خلیج عمان اور بحیرہ عرب تک نافذ ہوگا۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق ممنوعہ علاقے میں آنے والے جہاز کا رخ موڑ دیں گے یا قبضے میں لے لیں گے ، سب پر احکامات لاگو ہوں گے،غیر جانبدار جہاز اب بھی تلاشی اور معائنے کے بعد سفر جاری رکھ سکیں گے، انسانی ہمدردی کی ترسیلات کو معائنے کے بعد اجازت دی جائے گی۔
دنیا کی توانائی کی شہ رگ کہلانے والی آبنائے ہرمزاب عالمی تنازع کا مرکز بن چکی ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہےکہ آبی گزرگاہ کھولنے کے وعدے کی خلاف ورزی کی گئی،ٹرمپ نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ ناکہ بندی کے قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ،روس کا کہنا ہے آبنائے ہرمز کے بارے ٹرمپ کا پلان واضح نہیں ہے،، ناکہ بندی سے عالمی معیشت متاثر ہوگی، ترجمان چینی وزارت خارجہ نے آبنائے ہرمز پر فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے برطانیہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ برطانیہ سے مل کر سمندری آمدورفت کی بحالی کے لئے امن مشن بنائیں گے، ترک وزیرخارجہ نے کہا سمندری گزرگاہ کو سفارتکاری سے ہی کھولنے کی ضرورت ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت پر خطرہ منڈلانے لگا ، کیا دنیا ایک نئی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے؟آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ سکتی ہے،تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو سکتاہے ،دنیا بھر میں مہنگائی کا طوفان آ سکتا ہے ۔
معاشی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز بند ہوئیتو دنیا بھر میں تیل کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔کیا دنیا ایک اور بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟یا سفارتکاری اس بحران کو ٹال دے گی؟












