واشنگٹن(پاک ترک نیوز)امریکی خلائی ادارے ناسا نے زمین کے مدار سے باہر جوہری توانائی سے چلنے والے پہلے خلائی جہاز کی تیاری میں اہم پیش رفت کی ہے۔ ’’ایس آر ون فریڈم‘‘ نامی یہ خلائی
مشن مریخ اور اس سے آگے کی خلائی تحقیق کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، جس میں جوہری توانائی سے بجلی پیدا کرکے خلائی جہاز کو آگے بڑھانے کی ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ کیا جائے گا۔
ناسا کے مطابق مشن کے اہم حصے، جوہری توانائی کے نظام، پر کام جاری ہے۔ امریکی کمپنی سیرا لوبو جوہری ری ایکٹر سے حاصل ہونے والی حرارتی توانائی کو بجلی میں تبدیل کرنے والا نظام تیار کرے گی، جبکہ امریکی محکمہ توانائی کی آئیڈاہو نیشنل لیبارٹری جوہری ری ایکٹر کی تیاری اور ڈیزائن پر کام کر رہی ہے۔
ناسا کے حکام کا کہنا ہے کہ معاہدوں میں طے پانے والی پیش رفت سے تکنیکی خطرات کم کرنے اور مشن کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔ خلائی جہاز کو 2028 کے آخری مہینوں میں روانہ کرنے کا منصوبہ ہے۔
مشن کے ذریعے مریخ پر تین چھوٹے ہیلی کاپٹر بھی بھیجے جائیں گے، جو ناسا کے سابقہ مریخی ہیلی کاپٹر ’’انجینیوٹی‘‘ کے ڈیزائن سے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ ہیلی کاپٹر سائنسی معلومات جمع کریں گے، تحقیق کے لیے موزوں علاقوں کی نشاندہی کریں گے اور پانی کے ممکنہ ذخائر تلاش کرنے میں مدد دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: واخان راہداری پر طالبان کی دراندازی کی کوشش، چین کی سخت تنبیہ
ناسا کے مطابق جوہری ری ایکٹر کو زمین کے مدار سے باہر نکلنے تک غیر فعال رکھا جائے گا۔ مشن کی تیاری میں حفاظتی ضوابط، جوہری سلامتی کے جائزوں اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے اقدامات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کو مستقبل میں گہرے خلا کی تحقیق اور چاند پر ناسا کے مجوزہ اڈے کے لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ جوہری توانائی ایسے مقامات پر مسلسل بجلی فراہم کرنے میں مدد دے سکتی ہے جہاں شمسی توانائی ناکافی ہو۔












