جاپان (پاک ترک نیوز)کیا مریخ کے چاند کسی خلائی تصادم کی باقیات ہیں؟ یا یہ خلا میں بھٹکنے والے ایسے سیارچے ہیں جنہیں مریخ نے اپنی گرفت میں لے لیا؟ ایک صدی سے سائنس دان اس معمے کا جواب تلاش کر رہے ہیں، لیکن اب جاپان ایک ایسا خلائی مشن شروع کرنے جا رہا ہے جو اس راز سے پردہ اٹھا سکتا ہے! مشن مریخ کے سب سے بڑے چاند فوبوس سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرے گا اور انہیں واپس زمین پر لائے گا! لیکن ان نمونوں میں ایسا کیا چھپا ہو سکتا ہے جو مریخ ہی نہیں، زمین کی تاریخ بھی بدل کر رکھ دے؟ دیکھیے یہ رپورٹ!
خلا کی پراسرار دنیا میں ایک نئی سائنسی مہم! جاپان کا مارٹین مونز ایکسپلوریشن، یعنی ایم ایم ایکس مشن، مریخ کے سب سے بڑے چاند فوبوس کی جانب روانہ ہونے کے لیے تیار ہے۔
منصوبے کے مطابق خلائی جہاز مریخ کے قریب پہنچ کر فوبوس کے گرد مدار میں رہے گا، اس کی سطح کا تفصیلی نقشہ بنائے گا اور مریخ کے دوسرے چاند ڈیموس کا بھی مشاہدہ کرے گا۔
اس مشن میں ایک چھوٹی خودکار گاڑی بھی شامل ہے، جو فوبوس کی سطح پر اتر کر اس پراسرار دنیا کا جائزہ لے گی۔
لیکن اصل دلچسپی اس وقت شروع ہوگی جب خلائی جہاز فوبوس کی سطح سے نمونے جمع کرے گا۔ اس کے لیے دو الگ آلات استعمال ہوں گے۔ ایک سطح سے گرد اور چھوٹے پتھر جمع کرے گا، جبکہ دوسرا زمین میں چند سینٹی میٹر گہرائی سے مواد حاصل کرے گا۔
سائنس دان جاننا چاہتے ہیں کہ فوبوس اور ڈیموس آخر بنے کیسے؟
کیا یہ قدیم سیارچے ہیں جو مریخ کی کششِ ثقل میں پھنس گئے؟ یا اربوں سال پہلے مریخ سے کسی بڑے خلائی جسم کے ٹکرانے کے بعد خارج ہونے والا ملبہ جمع ہو کر ان چاندوں میں تبدیل ہوا؟
زمین پر واپس لائے جانے والے نمونوں کا تجزیہ ان دونوں نظریات میں فرق واضح کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی مذاکراتی مسودے کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے، طارق فضل چوہدری
اور سب سے حیران کن امکان یہ ہے کہ فوبوس کی مٹی میں خود مریخ سے آنے والے ذرات بھی محفوظ ہوں
اگر ایسا ہوا تو سائنس دانوں کو نہ صرف مریخ بلکہ نظامِ شمسی کے ابتدائی دور، پانی کی موجودگی اور زندگی کے لیے ضروری نامیاتی مرکبات کی تاریخ سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
منصوبے کے مطابق نمونے 2031 میں زمین پر واپس پہنچنے کی توقع ہے۔






