لاہور ( پاک ترک نیوز) پانی کی کمی کے بحران سے نمٹنے کے لیے دنیا کا ایک اور بڑا منصوبہ سامنے آ گیا ۔اردن نے 6 ارب ڈالر کی لاگت سے ایسا میگا پراجیکٹ شروع کیا ہے جو بحیرہ احمر کے پانی کو پینے کے قابل بنا کر لاکھوں لوگوں کی زندگی بدل دے گا۔یہ منصوبہ نہ صرف خطے میں پانی کے بحران کا حل سمجھا جا رہا ہے بلکہ اسے دنیا کے بڑے آبی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
اردن 6 ارب ڈالر کی لاگت سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ڈی سیلینیشن پلانٹ بنا رہا ہے
اردن 6 ارب امریکی ڈالر خرچ کر کے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کا پلانٹ تعمیر کر رہا ہے، جس کے ذریعے بحیرہ احمر کے پانی کو پینے کے قابل پانی میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس کے مقابلے میں شمال مشرقی برازیل اب بھی ان ڈی سیلینیشن منصوبوں کا انتظار کر رہا ہے جن کا وعدہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے کیا گیا تھا۔
یہ پلانٹ عقبہ بندرگاہ پر تعمیر کیا جا رہا ہے، جو سالانہ 300 ملین مکعب میٹر سمندری پانی کو قابلِ استعمال پانی میں تبدیل کرے گا۔ اس پانی کو 450 کلومیٹر طویل پائپ لائن (آبی نہر) کے ذریعے دارالحکومت عمان تک پہنچایا جائے گا، جس سے 30 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے، ایسے ملک میں جہاں بارش تقریباً نایاب سمجھی جاتی ہے۔
اکتوبر 2025 میں “ماڈرن ڈپلومیسی” کی رپورٹ کے مطابق، گرین کلائمیٹ فنڈ نے اس منصوبے کے لیے 295 ملین ڈالر کا ریکارڈ پیکج منظور کیا، جو ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کے لیے اس فنڈ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔
اردن کے وزیرِ آبی وسائل نے اس منصوبے کو اسٹریٹجک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سالانہ 300 ملین مکعب میٹر صاف پانی فراہم کرے گا۔ وزیرِاعظم جعفر حسن نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 5 ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور اس کی تعمیر میں تقریباً 4 سال لگیں گے۔











