
از: سہیل شہریار
دنیا کی بلند ترین چوٹیماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنا ہر کوہ پیما کا خواب ہے ۔ اسی لئے ہر سال ان کوہ پیماؤں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہےجو اس چوٹی کو سر کرنے کا اعزاز حاصل کر رہے ہیں۔کوہ پیمائی کے جار ی سیزن میں ایک ہزار سے زائد کوہ پیماؤں نے ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچ کر اسےاب تک کا مصروف ترینسیزن بنا دیا ہے۔
محکمہ سیاحت کےنیپالی حکام اورکوہ پیماؤں نے کہا ہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی کو سر کرنے کے لئے اس برس مستحکم موسم کے طویل دورانیے نے کامیاب چڑھائیوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
محکمہ سیاحت کی جاری کردہ معلومات کے مطابق اس سیزن میں ایک ہزار سے زائد کوہ پیما چوٹی پر پہنچے ہیں۔ لیکن حتمی تعداد کی تصدیق کرنا ابھی باقی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل ایک ہی سیزن میں ایورسٹ کو سب سے زیادہ 2019 میںسر کیا گیا۔ جب 877 کوہ پیماؤںنے اس میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال کامیابی سے چوٹی سر کرنے والے کوہ پیماؤں کی کل تعداد کا اعلان تصدیق کے بعد کیا جائے گا۔ جس کے لیے کوہ پیما کی مہماتی کمپنی اور گائیڈز کی تصاویر اور بیانات درکار ہوتے ہیں۔
ماؤنٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے جسے اب تک ہزاروں کوہ پیما سر کر چکے ہیں۔ سر ایڈمنڈ ہلیری اور تینزنگ نورگے نے 1953 میں پہلی بار اسے سر کیا۔جبکہ نمایاںترین کوہ پیماؤں میں نیپال کے کامی ریٹا نےسب سے زیادہ 32 باراس چوٹی کو مختلف راستوں سے سر کیا ہے۔
ماؤنٹ ایورسٹ کی8848 میٹربلند چوٹی کوسر کرنے والے کوہ پیماؤں میں اب تک 14 پاکستانی کوہ پیما شامل ہیں۔ جنہوں نے دنیا کی اس بلند ترین چوٹی پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا۔سب سے پہلے یہ کارنامہ سر انجام دینے والے پاکستانی کوہ پیما نذیر صابرنے 2000ء میں ماؤنٹ ایورسٹ سرکی۔حسن سدپارہ دوسرے پاکستانی کوہ پیما تھے جنہوں نے 2011ء میں یہ اعزاز حاصل کیا۔ تیسرا نمبرثمینہ بیگ کا ہے کو 2013ء میں ایورسٹ سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما ہیں۔ جبکہ اسی برس انکے بھائی مرزا علی بیگ نے بھی یہ اعزاز حاصل کیا ۔
شہروز کاشف جنہیں کوہ پیمائی کی دنیا میں براڈ بؤائے کے نام سے جانا جاتا ہےوہ 2021ء میں 19 سال کی کم ترین عمر میں ایورسٹ سر کرنے کا اعزاز پانے والے کم عمر ترین پاکستانی بنے۔ اسی طرح کے۔ٹو سر کرنے کی مہم کے دران 2021میں جاں بحق ہونے والے نامور کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے صاحبزادےساجد علی سدپارہ2023ء میں بغیر آکسیجن کے ایورسٹ سر کرنے والے پہلے پاکستانی بنے۔نائلہ کیانی2023ء میں ایورسٹ سر کرنے والی دوسری پاکستانی خاتون ہیں۔ سعد بن منور24 مئی 2025ءکو تبت کی طرف سے جسےنارتھ سائیڈبھی کہا جاتا ہے ایورسٹ کو سر کرنے والے پہلے پاکستانی بنے۔جبکہ سلمان عتیق گزشتہ ماہ مئی 2026ء میں دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے والے 14 ویں پاکستانی ہیں۔






