نیویارک (پاک ترک نیوز)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں سالانہ اجلاس میں اعلی سطحی ہفتے کی شروعات ہو گئی ہے جس میںپاکستان کی نمائندگی کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستانی وفد کے ہمراہ نیویارک پہنچ گئے ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان اپنے چار روزہ قیام کے دوران انتہائی مصروف وقت گزاریں گے ۔ شیڈول کے مطابق وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر منعقدہ ہونے والی متعدد اعلیٰ سطحی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (جی ڈی آئی) کی اعلیٰ سطحی میٹنگ، موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات پرخصوصی کانفرنس اور زندگی کے تمام شعبوں میں اے آئی کےتیزی سے پھیلتے اثرونفوذ پر غور اسکے منظم پھیلاؤ کو یقینی بنانے کے لئے بین الاقوامی ادارے کے قیام کے لئے مشاورت کی غرض سے منعقد ہونے والی خصوصی اعلیٰ سطحی تقریب شامل ہیں۔ وزیر اعظم امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ منتخب اسلامی رہنماؤں کی ملاقات میں بھی شرکت کریں گے تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ وزیراعظم اجلاس میں شریک عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
وزیر اعظم اپنے نیویارک کے قیام کے آخری دن 26ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے ۔ وہ اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اہم عالمی امور پر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے.
وزیراعظم محمد شہباز شریف آج اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے باضابطہ آغاز کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ وزیرِ اعظم امریکہ اور قطر کی میزبانی میں عرب اور اسلامی ممالک کے خصوصی سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ جس کے لئے انہیں خصوصی طور پرمدعو کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عرب اور اسلامی ملکوں کی قیادت کو فلسطین کے مسئلے پر اعتماد میں لیں گے۔ وزیرِ اعظم آسٹریا کی چانسلر کرسٹینا سٹاکر، کویت کے ولی عہد و وزیرِ اعظم عزت مآب شیخ صباح الخالد، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا اور عالمی مالیاتی فنڈ کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ جس کے بعد وزیرِ اعظم عالمی ترقیاتی اقدام (گی ڈی آئی) کے اعلی سطح اجلاس میں شرکت اور خطاب کریں گے۔












