تہران : (پاک ترک نیوز)مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایران نے وہ قدم اٹھا لیا ہے جس نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایران نے اپنے جدید ترین خیبر شکن بیلسٹک میزائل امریکا کے خلاف تیار کرکے نصب کر دیے ہیں اور امریکی فوجی اڈے اب براہِ راست اس کے نشانے پر ہیں۔
ایران نے امریکا کے سب سے بڑے فضائی اڈے العدید ایئر بیس سمیت خلیجی ممالک میں پھیلے امریکی فوجی مراکز کو لاک کر لیا ہے۔
بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹرز، کویت کا علی السالم ایئر بیس، یو اے ای کا الظفرہ ایئر بیس، اور عراق میں عین الاسد ایئر بیس، سب ایران کی میزائل رینج میں آ چکے ہیں۔
خیبر شکن اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس، ٹھوس ایندھن پر چلنے والا، درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے، جس کی رینج تقریباً 1500 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ میزائل ناصرف ریڈار سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ سیٹلائٹ ڈیٹیکشن کے لیے بھی شدید چیلنج بن چکا ہے۔
سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کا گائیڈڈ وارہیڈ ہدف کو غیر معمولی درستگی کے ساتھ نشانہ بناتا ہے۔ جدید دفاعی نظام پیٹریاٹ اور آئرن ڈوم بھی اس کے سامنے کمزور ثابت ہو چکے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جنگی حکمتِ عملی یہ ہے کہ ایک ساتھ مختلف رینج اور طاقت کے متعدد میزائل فائر کیے جائیں، تاکہ دفاعی نظام کنفیوژ ہو جائے، اور اصل میزائل اپنے ہدف تک پہنچ جائے۔ یہی حکمتِ عملی ایران پہلے اسرائیل کے خلاف آزما چکا ہے۔
صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ امریکی فوجی اڈے خالی کیے جا رہے ہیں، امریکی جنگی طیارے ایران کی سرحدوں کے قریب پروازیں کر رہے ہیں، جبکہ ایران بھی مکمل الرٹ پر ہے اگر امریکا نے کوئی مہم جوئی کی، تو ایران خیبر شکن کے ساتھ بھرپور جواب دینے کے لیے تیار کھڑا ہے۔












