
از: سہیل شہریار
پاکستان رواں سال کے وسط تک چینی جے۔ 35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارےکے جے۔ 500 ایئر بورن ارلی وارننگ جہاز اورایچ کیو۔ 19 میزائل ڈیفنس سسٹم حاصل کر سکتا ہے۔ جس سے خطے کا پہلا مربوط پانچویں نسل کا جنگی ماحولیاتی نظام تشکیل پائے گا۔
ٰڈیفنس سیکورٹی ایشیا (ڈی ایس اے)نےاپنی نئی رپورٹ میں یہ دعو ی کیا ہے۔جس کے مطابق چین کے پاکستان کوجے۔ 35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی فراہمی میں تیزی لانے کے مبینہ فیصلے نے بھارت کی جانب سے رافیل کو فرنٹ لائن سروس میں شامل کرنے کے بعد سے جنوبی ایشیا کے فضائی طاقت کے توازن میں نتیجہ خیز تبدیلی متعارف کرائی ہے۔ نظرثانی شدہ شیڈول مبینہ طور پر ابتدائی ترسیل کو رواں سال کے آخر سے سال کے وسط تک منتقل کرتا ہے۔ جس میں ابتدائی طور پر پاکستان کو چھ جے۔35اسٹیلتھ طیارے اور ایک کے جے۔500
ایواکس طیارہ فراہم کئے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان جدید ہتھیاروں کی پاکستان کو فراہمی وسیع تر تزویراتی اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ ہندوستان کے پاس ابھی تک آپریشنل فائفتھ جنریشن لڑاکا طیارے نہیں ہیں۔ اور اسکی فضائیہ فرانسیسی رافیل، روسی سیخوئی۔ 30 اور اپ گریڈ شدہ میگ۔29 طیاروں پرمشتمل ہے۔بھارتی فضائیہ کو لڑاکا جہازوںکی شدید کمی کا سامنا ہے جس سے اسکی آپریشنل صلاحیت 42اسکواڈرن سے کم ہو کر29اسکواڈرن رہ گئی ہے۔ جبکہ رافیل کے جدید ماڈلز کے 114جہاز خریدنے کے لئے فرانس سے معاہدے کے باوجود اسے ان جہازوں کے حصول میں 8سے10سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں نے چینی پیکج کو صرف طیاروں کی خریداری کے بجائے ایک جنگی ماحولیاتی نظام کے طور پر بیان کیا ہے۔ کیونکہ جے۔ 35، کے جے۔ 500 اور ایچ کیو۔ 19 کا امتزاج پاکستان کی مہلکیت، بقا اور آپریشنل رسائی کو بیک وقت کئی گنا بڑھادے گا۔تجزیہ کاروں کایہ بھی کہنا تھا کہ اگرپاکستان کو پانچویں نسل کے اسٹیلتھ جہاز اسی تیزی سے فراہم کردئیے جاتے ہیں۔ تو وہ چینی ا سٹیلتھ فائٹر کا پہلا غیر ملکی گاہک بن جائے گا۔ جبکہ یہ بیجنگ کی دفاعی صنعت کے لیے ایک علامتی اور آپریشنل سنگ میل ہو گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ چینی حکام نے کھلے طور پر نظرثانی شدہ ترسیل کے شیڈول کی تصدیق نہیں کی ہے۔ جبکہ پاکستانی دفاعی حکام کے تبصرے نے اس اقدام کو تیزی سے اسلام آباد کی علاقائی ڈیٹرنس کو برقرار رکھنے کے بیجنگ کے عزم کاثبوت قرار دیا ہے۔مگر انہوں نے بھی جلد فراہم کئے جانے والے طیاروں کی تعداد،دفاعی پیکیج کی تفصیلات اور ترسیل کے مراحل کے بارے میںوضاحت سے گریز کیا ہے۔
ڈی ایس اے کا کہنا ہےاس کے باوجود چین کے دفاعی پیکیج کی تیزی سے فراہمی کے تزویراتی مضمرات پہلے ہی پورے خطے میں فوجی حسابات کو نئی شکل دے رہے ہیں۔جبکہ پاکستان کو ملنے والےایک وسیع تر دفاعی پیکج میں تقریباً 40 جے۔ 35 اسٹیلتھ فائٹرز 2سے3کےجے۔500ایئر بورن ارلی وارننگ جہازاور ایچ کیو۔19میزائل ڈیفنس سسٹم شامل ہیں۔
مئی 2025 میں چار روزہ پاک بھارت جنگ کے بعد اسلام آباد میں اس تاثر کو تقویت ملی کہ علاقائی فوجی توازن تیزی سے غیر مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔اس نے عجلت کے احساس کوتیز ی بخشی ۔جس کے نتیجے میںبیجنگ اب پاکستان کے لئے دفاعی پیکیج کو معمول کے برآمدی پروگرام کے طور پر نہیں دیکھتا۔اس کے بجائے، سرعت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چین علاقائی سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کی مستقبل کی فضائی طاقت کی ضروریات کو اسٹریٹیجک طور پر فوری اور ضروری سمجھتاہے۔












