تہران ( پاک ترک نیوز) کیا مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی جنگ کا اسکرپٹ لکھا جا چکا ہے جو چند دنوں یا مہینوں نہیں بلکہ پانچ دہائیوں تک جاری رہ سکتی ہے؟ برطانوی میڈیا کی ایک چونکا دینے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا طویل فوجی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔ ایسا آپریشن جس کا ہدف صرف ایران نہیں بلکہ پورا خطہ ہو سکتا ہے۔بحیرہ عرب سے خلیج تک جنگی بیڑوں کی نقل و حرکت، رسد کیلئے مخصوص سپلائی شپ، جدید ہتھیاروں کی ترسیل۔ یہ سب کسی مختصر کارروائی نہیں بلکہ ایک لانگ ٹرم وار اسٹریٹجی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ وہی ماڈل ہے جس میں دشمن کو فوری نہیں بلکہ مسلسل دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ یہ جنگ ایران کیخلاف ہے یا خطے کے تیل، سمندری گزرگاہوں اور عالمی سپلائی لائنز پر کنٹرول کی جنگ؟ اگر اس منصوبے کے تحت اہم آبی راستوں پر گرفت مضبوط ہو جاتی ہے تو دنیا کی توانائی سپلائی ایک ہی طاقت کے ہاتھ میں آ سکتی ہے۔ چین کی معاشی شہ رگ، روس کی اسٹریٹجک موومنٹ اور خلیجی ریاستوں کی خود مختاری۔ سب اس گیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔
کیا مذاکرات صرف وقت حاصل کرنے کی چال ہیں؟ کیا خطے میں نئی “ایسٹ انڈیا کمپنی” طرز کی اکنامک وار شروع ہونے والی ہے؟ اور کیا مسلم دنیا اس بدلتی ہوئی صورتحال کو سمجھ پا رہی ہے؟ یہ جنگ صرف میزائلوں اور طیاروں کی نہیں ہوگی۔ یہ تیل، تجارت، معیشت اور عالمی طاقت کے توازن کی جنگ ہوگی۔ فیصلہ کن مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ جہاز روانہ ہو چکے ہیں اور دنیا ایک نئی، طویل اور خطرناک کشمکش کے دہانے پر کھڑی ہے۔












