تہران ( پاک ترک نیوز) آبنائے ہرمز اس وقت دنیا کے سب سے حساس اسٹریٹجک چوک پوائنٹس” میں بدل چکا ہے جہاں صورتحال انتہائی غیر یقینی اور کشیدہ ہے،امریکا نے بحریک ناکہ بندی کا اعلان کر کے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ۔کبھی عارضی کھولنے اور پھر دوبارہ بند کرنے کے فیصلوں نے مارکیٹ اور شپنگ سیکٹر میں شدید بے یقینی پیدا کر دی ۔
دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل اور بڑی مقدار میں گیس اسی راستے سے گزرتی ہے ،خلیجی ممالک کی پیٹروکیمیکل اور خوراکی سپلائی چین بھی اسی پر منحصر ہے ۔
یہ بحران دراصل تین بڑی طاقتوں کے درمیان “پاور گیم” ہے،ایران آبنائے ہرمز کو اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ،امریکا ایران کو معاشی طور پر کمزور کرنے کیلئے ناکابندی کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے ،یو اے ای اور دیگر ممالک آزاد جہاز رانی پر زور دے رہے ہیں ۔
دوسری طرف امریکی دباؤ بھی رکاوٹ نہ بن سکا، ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس حاصل کرنا شروع کردی، پہلی آمدن مرکزی بینک میں منتقل کردی گئی ، امریکی ذرائع کے مطابق ایران نے ہر جہاز سے 20لاکھ ڈالر وصول کئے۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بحری جہازوں کو پکڑا ،جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو چکا ہے ،ادھر جرمن کمپنی کے تحت آپریٹ کیے جانے والے جہاز سمیت دو مزید خالی آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزر گئے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں میں ایک جرمن کمپنی کے تحت آپریٹ کیا جانے والا "ٹیما ایکسپریس” ہے، جبکہ دوسرے جہاز "ایل بی انرجی” پر پاناما کا پرچم لگا ہوا ہے۔
آبنائے ہرمز اس وقت صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ امریکا ایران پاور شو ڈاؤن کا مرکزی اسٹیج بن چکا ہے۔خفیہ رپورٹس، بحری نقل و حرکت، اور سفارتی بیانات سب ایک ہی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ صورتحال قابو میں ہے، مگر کسی بھی لمحے قابو سے باہر جا سکتی ہے۔











