اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان کے ایئر پورٹس پر سکیورٹی کا نیا نظام نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،امریکا نے بھاری سرمایہ کی حمایت کر دی،نئے سسٹم میں مسافروں کا ڈیٹا ،رئیل ٹائم میں شیئر ہو گا، ہائی رسک افراد کی فوری شناخت ممکن ہو گی ،اہم بات یہ ہے کہ تمام مسافروں کا ڈیٹا پاکستان کے کنٹرول میں ہی رہے گا۔
امریکا نے پاکستان کے بڑے ہوائی اڈوں پر جدید سکیورٹی نظام نصب کرنے کے لیے ایک امریکی کمپنی کی جانب سے پیش کردہ 2.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تجویز کی حمایت کر دی جس کا مقصد سرحدی کنٹرول کو مضبوط بنانا اور جرائم پیشہ خطرات کی بروقت نشاندہی کرنا ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکی ناظم المور نیٹلی بیکرز نے کمپنی کی تجویز پر اتفاق کیا ہے،جس کے تحت پاکستان کے ایئر پورٹس پر ایڈوانسڈ پسنجرانفارمیشن سسٹم نصب کیے جائیں گے۔
یہ مجوزہ نظام ایئرلائنز اور حکومتی اداروں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے کو ممکن بنائے گا جبکہ مسافروں کے تمام ڈیٹا کی ملکیت اور کنٹرول پاکستان کے پاس ہی رہے گا۔ اس سسٹم کو بایومیٹرک ٹیکنالوجی کے ذریعے سرحدی نگرانی کو مؤثر بنانے اور مشتبہ یا ہائی رسک مسافروں کی شناخت کے لیے تیار کیا گیا ۔
منصوبے کے تحت کمپنی ابتدائی سرمایہ کاری خود کرے گی۔بعد میں اخراجات مسافروں پر سکیورٹی سرچارج کے ذریعے مرحلہ وار وصول کیے جائیں گے۔ کمپنی نے پاکستان میں ایک مقامی ذیلی ادارہ قائم کرنے اور ایک ہزار سے زائد پاکستانی ماہرین کو جدید سکیورٹی ٹیکنالوجی کی تربیت دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔
یہ نظام فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے تحت چلایا جائے گا۔۔ اسے موجودہ ڈیٹا بیسز، جیسے ایگزٹ کنٹرول لسٹ اور بین الاقوامی نگرانی کے پلیٹ فارمز سے منسلک کیا جائے گا تاکہ خطرات کی فوری نشاندہی ممکن ہو سکے۔
پاکستان کئی برسوں سے اپنے ایئرپورٹ سکیورٹی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے پر کام کر رہا ہے، اور اس سے قبل بھی بین الاقوامی کمپنیوں کو مسابقتی بولی کے ذریعے مدعو کیا جا چکا ہے۔ امریکی حمایت یافتہ یہ نئی تجویز اس عمل کو تیز کر سکتی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
کیا یہ منصوبہ پاکستان کے ایئرپورٹس کو دنیا کے محفوظ ترین مراکز میں بدل دے گا؟یا پھر سکیورٹی کے نام پر مسافروں پر نیا مالی بوجھ ڈال دیا جائے گا؟ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے لیکن اثر مسافروں پر پڑے گا۔












