لاہور( پاک ترک نیوز) کاربن ڈائی آکسائیڈ سے الزائمر کے علاج کی نئی امید پیدا ہو گئی ۔ ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ محدود وقت کے لیے زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ سانس کے ذریعے لینے سے دماغ میں جمع ہونے والے ان پروٹینز کو خارج کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو الزائمر جیسی بیماری سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔
محققین کے مطابق تقریباً تیس منٹ تک وقفے وقفے سے زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ لینے سے دماغ کا قدرتی صفائی کا نظام زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں ایمیلائیڈ اور ٹاؤ نامی نقصان دہ پروٹینز کے اخراج میں مدد ملتی ہے۔ یہی پروٹین الزائمر کی بیماری کی اہم علامات میں شمار کیے جاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ دماغ کی خون کی نالیوں کے پھیلنے اور سکڑنے کے عمل کو اس انداز میں متحرک کرتی ہے جو گہری نیند کے دوران قدرتی طور پر ہوتا ہے۔ اس سے دماغ کا صفائی کا نظام تیز ہو جاتا ہے اور نقصان دہ فضلہ زیادہ مؤثر طریقے سے خارج ہونے لگتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ میں فضلہ جمع ہونے سے اعصابی خلیات کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے اگر یہ نظام بہتر انداز میں کام کرے تو الزائمر سمیت دیگر اعصابی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صحارا کے سینے میں چھپا اسلام کا ساتواں مقدس شہر
محققین نے یہ بھی بتایا کہ 2025 میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق سے عندیہ ملا ہے کہ یہی طریقہ پارکنسن کے مرض میں بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے ایک اور نقصان دہ پروٹین الفا سائنوکلین کے اخراج میں مدد ملنے کا امکان ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ تحقیق ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کے نتائج محدود تعداد میں افراد پر کیے گئے تجربات پر مبنی ہیں۔ اس لیے اسے فی الحال علاج کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ اس کی افادیت اور حفاظت جانچنے کے لیے مزید بڑے پیمانے پر طبی تحقیقات کی ضرورت ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ طبی نگرانی کے بغیر زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ سانس کے ذریعے لینے کی کوشش ہرگز نہ کریں، کیونکہ یہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔






