نواذیبو (پاک ترک نیوز) دنیا میں ایسے بہت کم ممالک ہیں جہاں آج بھی وقت صدیوں پرانی رفتار سے چلتا محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا ہی ملک ہے موریطانیہ، جہاں ریت کے سمندر، ہزاروں سال پرانے قافلوں کی یادیں، نایاب مخطوطات، تاریخی کتب خانے اور اسلام کے اہم علمی مراکز آج بھی اپنی داستان سناتے ہیں۔ صحرا کے دل میں آباد یہ سرزمین دنیا کے ان رازوں میں سے ایک ہے، جنہیں بہت کم لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
افریقہ کے شمال مغرب میں واقع موریطانیہ کا تقریباً نوّے فیصد حصہ صحرائے صحارا پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دنیا کے کم آبادی والے اور کم دیکھے جانے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال یہاں دس ہزار سے بھی کم غیر ملکی سیاح آتے ہیں، حالانکہ قدرتی حسن، تاریخی ورثہ اور ثقافتی دولت کے اعتبار سے یہ ملک اپنی مثال آپ ہے۔
موریطانیہ کا ساحلی شہر نواذیبو ملک کی سب سے بڑی ماہی گیری کی بندرگاہ ہے۔ بحرِ اوقیانوس کی ٹھنڈی سمندری لہریں یہاں مچھلیوں کی بے شمار اقسام کو جنم دیتی ہیں۔ ہزاروں ماہی گیری کی کشتیاں ساحل پر اس قدر بڑی تعداد میں موجود ہوتی ہیں کہ ان کا منظر خلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا ملٹی پل ویزامتعارف ،ایک سال میں کئی بار عمرے کی اجازت
دارالحکومت نوواکشوط جدید اور روایتی زندگی کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ جدید سرکاری عمارتوں اور مساجد کے ساتھ ساتھ ریت سے ڈھکی گلیاں اس شہر کو ایک منفرد پہچان دیتی ہیں۔ تقریباً سولہ لاکھ آبادی والا یہ شہر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحرا کے سینے سے اچانک ابھر آیا ہو۔
نوواکشوط سے کچھ فاصلے پر واقع بیلا اونٹ بازار افریقہ کا دوسرا بڑا اونٹ بازار ہے۔ یہاں سینکڑوں اونٹ خرید و فروخت کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، جبکہ آج بھی موریطانیہ کی فوج دور دراز صحرائی علاقوں میں گشت کے لیے اونٹوں کا استعمال کرتی ہے۔ اونٹ یہاں صرف جانور نہیں بلکہ ثقافت، معیشت اور روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہیں۔
موریطانیہ کی اصل شناخت اس کے قدیم قافلہ بردار شہروں میں پوشیدہ ہے۔ ان میں سب سے نمایاں اولاتہ ہے، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ سرخ مٹی سے تعمیر شدہ عمارتیں، خوبصورت جیومیٹریائی نقش و نگار اور صدیوں پرانی گلیاں آج بھی ماضی کی عظمت کی گواہی دیتی ہیں۔
اولاتہ کی سب سے بڑی دولت اس کے وہ نادر مخطوطات ہیں جنہیں کسی سرکاری ادارے نے نہیں بلکہ مقامی خاندانوں نے نسل در نسل اپنے گھروں میں محفوظ رکھا۔ قرآن، اسلامی فقہ، تاریخ، ادب اور مختلف علوم پر مشتمل یہ قیمتی دستاویزات آج بھی گھروں کی الماریوں میں محفوظ ہیں اور موریطانیہ کی علمی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
اس سفر کا سب سے حیران کن مقام ہے شنقیط، جسے اکثر اسلام کا ساتواں مقدس ترین شہر کہا جاتا ہے۔ آٹھویں صدی میں آباد ہونے والا یہ شہر صدیوں تک اسلامی تعلیم، تحقیق اور صحارا پار تجارت کا مرکز رہا۔ یہاں سے نمک، سونا اور نایاب مخطوطات اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے افریقہ اور عرب دنیا تک پہنچائے جاتے تھے۔
شنقیط کی تاریخی مسجد کا مینار دنیا کے قدیم ترین مسلسل استعمال ہونے والے اسلامی میناروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تیرہویں صدی میں یہ شہر علما، فقہا اور طلبہ کا مرکز بن گیا، جہاں دور دراز علاقوں سے لوگ علم حاصل کرنے آتے تھے۔
شنقیط کے قدیم کتب خانے آج بھی علم کا خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ فلکیات، طب، جیومیٹری، شاعری، اسلامی قانون اور دیگر علوم پر مشتمل ہزاروں مخطوطات صدیوں سے محفوظ ہیں۔ ان میں سے کئی کتابیں اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے شمالی افریقہ سے یہاں پہنچیں، جبکہ متعدد مقامی علما کی تصنیف کردہ ہیں۔
اگرچہ وقت کے ساتھ بہت سے خاندان شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں، لیکن تاریخی کتب خانوں کی بحالی اور قدیم مخطوطات کے تحفظ کی کوششیں آج بھی جاری ہیں۔ یہی ورثہ شنقیط کو دنیا کے منفرد ترین تاریخی شہروں میں شامل کرتا ہے۔
موریطانیہ کی خوبصورتی صرف اس کی تاریخ تک محدود نہیں۔ وسیع صحرا کے درمیان موجود سرسبز نخلستان، خاص طور پر ترجیت، اس بے آب و گیاہ زمین میں زندگی کی علامت ہیں۔ کھجوروں کے گھنے درخت، قدرتی چشمے اور خاموش وادیاں ہر آنے والے کو حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔
ریت کے سمندر، صدیوں پرانے علمی مراکز، نادر مخطوطات، تاریخی مساجد، قدیم کتب خانے اور انسانی تہذیب کی لازوال داستانیں۔ موریطانیہ صرف ایک ملک نہیں بلکہ تاریخ، علم اور ثقافت کا ایسا خزانہ ہے جو آج بھی صحارا کی خاموش ریت میں محفوظ ہے ۔






