فلسطینیوں کے لیے آزادی کی امید یا ایک اور قیامت؟
تل ابیب (پاک ترک نیوز)اسرائیل کی سیاست میں انتخابی نتائج کے بعد ایسا بھونچال اٹھا کہ اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی ۔ برسوں سے اسرائیل کی سیاست پر چھائے رہنے والے بنیامین نیتن یاہو کے سامنے اب سب سے بڑا سوال کھڑا ہے: کیا وہ ایک بار پھر حکومت بچا لیں گے، یا اقتدار کی بازی ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی؟
ابتدائی انتخابی نتائج میں نیتن یاہو اور مخالف اتحادکو اکیاون ،اکیاون نشستیں ملی ہیں ،جبہ کہ عرب جماعتوں کی اٹھارہ سیٹیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار اداکرسکتی ہیں
اور اگر نیتن یاہو اقتدار سے باہر ہوگئے تو کیا ہوگا؟کیا برسوں سے جاری بدعنوانی کے مقدمات میں ان کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی؟ کیا وہ سیاسی طاقت کھونے کے بعد عدالتوں میں زیادہ دباؤ محسوس کریں گے؟ ۔ حکومت کا خاتمہ ان مقدمات میں خودبخود سزا یا فیصلہ نہیں بنے گا، لیکن ان کی سیاسی پوزیشن ضرور بدل سکتی ہے۔
مگر اس پوری کہانی کا سب سے دردناک پہلو فلسطین ہے،،غزہ کے وہ بچے جنہوں نے کھلونوں کی جگہ تباہ شدہ گھروں کا ملبہ دیکھا، وہ مائیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، وہ خاندان جو آج بھی محفوظ چھت اور بنیادی سہولتوں کے منتظرہیں ،کیا ان کی زندگی میں بھی کوئی تبدیلی آئے گی۔
کیا بمباری کے خوف سے کانپتے بچوں کو سکون ملے گا؟ کیا بے گھر خاندان اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے؟ کیا زخمیوں کو علاج، بھوکے لوگوں کو خوراک اور فلسطینیوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق مل سکے گا؟یا پھر وزیراعظم کا چہرہ بدل جائے گا، مگر فلسطینیوں کی قسمت نہیں بدلے گی؟
یہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔۔۔۔ نیتن یاہو کے اہم حریف بھی فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اس لیے صرف نیتن یاہو کی ممکنہ رخصتی کو فلسطینیوں کے لیے آزادی کی ضمانت نہیں کہاجا سکتا
اب اسرائیل کے سامنے دو بڑے سوال ہیں: کیا نئی حکومت جنگ اور قبضے سے متعلق اپنی پالیسی میں حقیقی تبدیلی لائے گی؟ اور کیا اقتدار کی اس لڑائی میں فلسطینیوں کی جان، عزت اور حقوق کو بھی اہمیت دی جائے گی؟
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بھی نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت
نیتن یاہو رہیں یا اقتدار سے باہر ہوجائیں، اصل فیصلہ یہ ہوگا کہ کیا فلسطین میں خونریزی رکے گی؟ کیا احتساب ہوگا؟ اور کیا مظلوموں کو انصاف ملے گا؟کیا فلسطینی ماؤں کی آنکھوں میں انتظار کرتے بچے اب سکون کی سانس لے سکیں گے؟اس کا فیصلہ نعروں سے نہیں، اسرائیل کی نئی حکومت کے فیصلوں سے ہوگا۔










