واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی مخالفت کو پھر مسترد کر دیا ہے۔
میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے گذشتہ روزایئر فورس ون میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کوئی مجھے یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمیں کیا فروخت کرنا چاہیے۔اور کیا نہیں۔
انہوں نے ترکیہ کو ایک "بہترین اتحادی” قرار دیا جس نے شام سمیت علاقائی معاملات میں "بہت اچھا کام” کیا ہے۔
اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ انقرہ اسرائیل یا نیتن یاہو کا "بڑا حامی” نہیں ہے۔ امریکی صدر نے زور دیا کہ واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان دوطرفہ شراکت داری بدستور مضبوط ہے۔
ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ٹرمپ نے کہا تھاکہ وہ انقرہ کو طیاروں کی فروخت بحال کرنے پر "یقیناً غور کریں گے” اور انہوں نے ترکیہ کو "دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہحامی” قرار دیا تھا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ترکیہ کو ایف-35 لڑاکا طیارے فراہم کرنے کے معاملے پر "مثبت رویہ” اختیار کیا ہے۔ٹرمپ کے بیانات نے ان سابقہ میڈیا رپورٹس کی تصدیق کی جن میں کہا گیا تھا کہ وہ ترکیہ کو ان طیاروں کی مجوزہ امریکی فروخت پر نیتن یاہو کی عوامی تنقید سے "ناراض” تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ نے آبادی کے رجحانات جانچنے کے لیے 10 سالہ وژن جاری کر دیا
2019 میں، ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران، امریکہ نے روس سے ایس-400 میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری پر اعتراض کرتے ہوئے ترکی کو ایف-35 پروگرام سے معطل کر دیا تھا؛ امریکہ کا موقف تھا کہ روسی نظام ان لڑاکا طیاروں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
ترکی نے بارہا کہا ہے کہ دونوں نظاموں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اور اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے کی تجویز بھی دی۔ انقرہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے ایف-35 طیاروں سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کی تھیں اور اس کی معطلی قواعد کی خلاف ورزی تھی؛ ترکیہ کا موقف ہے کہ یہ طیارے نہ صرف ترکیہ بلکہ خطے میں نیٹو کو بھی مضبوط بنائیں گے۔












