تل ابیب ( پاک ترک نیوز) مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران اسرائیل میں بڑا بحران نے جنم لے لیا ،ایران جنگ پراسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اوراسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کے درمیان اختلافات شدت اختیارکرگئے ۔
۔ موساد کے سربراہ ایک ہفتے سے وزیراعظم کی صدارت میں اجلاسوں میں نہیں جا رہے ، نیتن یاہو نے موساد سربراہ پر ایرانی فوج کی صلاحیتوں کے حوالے سے غلط معلومات دینے کا الزام لگایا ہے ،دوسری طرف موساد سربراہ نے موقف اختیارکیا نیتن یاہو کو حقائق پر مبنی رپورٹس دی گئیں ،اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے طور پر جنگ شروع کی ،ناکامی کے ذمہ دار بھی وہی ہیں۔
یہ اختلافات اب صرف بند کمروں تک محدود نہیں رہے۔ بلکہ اسرائیلی میڈیا میں لیک ہونے والی معلومات نے اس بحران کو بے نقاب کر دیا ۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اسرائیل کسی بیرونی جنگ سے پہلے بڑے اندرونی بحران کا شکار ہو سکتا ہے، اور ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی میں تاخیر یا کنفیوژن پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ اختلافات نہ صرف اسرائیل کی داخلی سیاست کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔کچھ حلقوں کے مطابق، اہم سکیورٹی اجلاسوں میں بھی واضح تقسیم اسرائیل کی پالیسی سازی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے…کیا اسرائیل ایران پر حملہ کرے گا؟یا پھر اپنی ہی قیادت کے اختلافات میں الجھ کر فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے گا؟
ایران کے خلاف حکمت عملی پر یہ اختلافات کیا اسرائیل کے لیے کمزوری ثابت ہوں گے یا ایک نئی پالیسی کی بنیاد بنیں گے؟ یہ سوالات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے لیکن فی الحال، اسرائیل کے اندرونی اختلافات نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔












