تہران ( پاک ترک نیوز) ناظرین، سوال یہ ہے کہ اگر امریکا اتنا طاقتور ہے تو پھر وہ آبنائے ہرمز کو زبردستی کیوں نہیں کھول پا رہا؟ آخر کیا رکاوٹ ہے؟ آج ہم آپ کو وہ 4 بڑی وجوہات بتائیں گے جنہوں نے سپر پاور کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
پہلی وجہ : فوجی ترجیحات
امریکا اس وقت صرف آبنائے ہرمز پر فوکس نہیں کر سکتا۔ اس کے اصل اہداف ایران کے میزائل، ایٹمی پروگرام اور پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہیں۔ اگر وہ اپنی فضائی اور بحری طاقت یہاں منتقل کرتا ہے تو اس کی پوری جنگی حکمت عملی کمزور پڑ سکتی ہے۔
دوسری وجہ: جغرافیہ کا خطرناک کھیل
ایران کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پر جغرافیائی برتری حاصل ہے۔ ساحل کے قریب ہونے کی وجہ سے وہ سستے ڈرونز اور میزائلوں سے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یعنی امریکا کو صرف سمندر نہیں بلکہ ایران کے ساحلی علاقوں کو بھی کنٹرول کرنا پڑے گا جو ایک انتہائی خطرناک قدم ہے۔
تیسری وجہ:بھاری بحری لاگت اور رسک!
ہر تجارتی جہاز کو سیکیورٹی دینے کے لیے جنگی جہاز درکار ہوں گے۔ ایک قافلے کے لیے ایک یا دو نہیں بلکہ کئی بحری جہاز چاہیں۔ اور ہر امریکی جنگی جہاز میں سینکڑوں اہلکار ہوتے ہیں۔ کیا امریکا اتنا بڑا خطرہ مول لے گا؟
چوتھی اور سب سے خطرناک وجہ… بارودی سرنگیں اور ڈرون وار!
اگر ایران نے سمندر میں بارودی سرنگیں بچھا دیں یا صرف اس کا تاثر دے دیا تو جہاز خود ہی رک جائیں گے۔ ان سرنگوں کو صاف کرنے میں ہفتے نہیں، مہینے لگ سکتے ہیں۔ اوپر سے ڈرونز۔۔۔ جو کہیں سے بھی حملہ کر سکتے ہیں۔ امریکا کے لیے سب سے بڑا سر درد بن چکے ہیں۔ تو ناظرین! حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا صرف طاقت کا کھیل نہیں بلکہ ایک خطرناک جوا ہے












