
از : سہیل شہریار
اسرائیل نے دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے جو فضائی حملہ کیا تھااوراس کارروائی کو "قمۃ النار” یعنی "آگ کی چوٹی” کا نام دیا گیا تھا۔اس کارروائی میں اسرائیلی فضائیہ کے 15 امریکی ایف۔35طیارے استعمال کئے گئے جنہوں نے حماس کی قیادت کے رہائشی کمپاؤنڈ پر 7میزائل داغے تھے۔تاہم وہ اپنے ہدف کے حصول میں ناکام رہے۔
حملے کے بعداسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ حملہ مکمل طور پر آزاد انہ اسرائیلی آپریشن تھا۔اسرائیل نے اس کی شروعات کی، اسرائیل نے اسے انجام دیا اور اسرائیل اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتا ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=XeNA1cQ4kKw
حملے کے کچھ گھنٹے بعد ٹروتھ سوشل پر ایک وضاحتی پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حملہ نیتن یاہو کا فیصلہ تھا۔ یہ میری طرف سے کیا گیا فیصلہ نہیں تھا۔ جیسے ہی انہیں حملے کی اطلاع ملی۔ انہوں نےفوری طور پر امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف کو قطر کو مطلع کرنے کی ہدایت کی۔ لیکن یہ اطلاع "بہت دیر سے” کی گئی۔میں قطر کو امریکہ کا ایک مضبوط اتحادی اور دوست سمجھتا ہوں اور حملے کے مقام کے بارے میں بہت برا محسوس کرتا ہوں۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہوں نےقطر کے رہنماؤں کو یقین دلایا ہے کہ "ان کی سرزمین پر دوبارہ ایسا کچھ نہیں ہوگا”۔
انہوں نےیہ بھی کہا کہقطر کے اندر یکطرفہ بمباری جو کہ ایک خودمختار ملک اور امریکہ کا قریبی اتحادی ہے۔ اور بہت محنت اور بہادری سے ہمارے ساتھ امن کے لیے خطرہ مول لے رہا ہے۔ اسرائیل یا امریکہ کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھاتا۔ تاہم حماس کو ختم کرنا جس نے غزہ میں رہنے والوں کی مصیبتوں سے فائدہ اٹھایا ہے ایک قابل مقصد ہے۔
حماس کے مطابق اسرائیلی حملے شہید ہونے والوں میںہمام الحیا (ابو یحییٰ) – چیف مذاکرات کار الحیا کا بیٹا جہاد لباد (ابو بلال) – الحیا کے دفتر کے ڈائریکٹر عبداللہ عبدالواحد (ابو خلیل) مومین حسونہ (ابو عمر) احمد المملوک (ابو مالک)اور قطری داخلی سیکورٹی فورسزکےکارپورل بدر سعد محمد الحمیدی شامل ہیں۔
حماس نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ اس بات کی توثیق کرتاہے کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت امن کے لیے کسی معاہدے تک نہیں پہنچنا چاہتے۔
جبکہ ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نےمیڈیا کو بتایا ہےکہ دوحہ حملے میں دو افراد بنیادی ہدف تھے جن میں خلیل الحیا کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے کے جلاوطن رہنما زہر جبرین شامل تھے۔ مگر اب ان دونوں سمیت حماس کے دیگر قائدین کے حملے میں بچ جانے کی تصدیق ہو گئی ہے۔












