ہفتہ , 6 جون , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

اسرائیل کی غزہ اور مشرق وسطی میں جارحیت ،امریکی مالی امداد کے بغیر ناممکن

8 مہینے پہلے
A A
اسرائیل کی غزہ اور مشرق وسطی میں جارحیت ،امریکی مالی امداد کے بغیر ناممکن
Share on Facebookwhatsapp

از: سہیل شہریار

اکتوبر 2023 سے اب تک امریکہ کی 21 ارب ڈالر سے زیادہ کی جنگی اخراجات کے لئے اہم مالی مدد کے بغیر اسرائیل غزہ اور مشرق وسطیٰ میں اپنی جنگوں کو برقرار نہیں رکھ سکتا تھا۔یہ ہے وہ نتیجہ جو دو معروف امریکی اداروں کی تازہ ترین رپورٹس میں پیش کیا گیا ہے۔
براؤن یونیورسٹی کے کاسٹ آف وار پراجیکٹ اور کونسی انسٹی ٹیوٹ نے مشترکہ طور پر ولیم ہارسی انسٹی ٹیوٹ میں ایک سینئر ریسرچ فیلو ولیم ڈی ہارٹنگ کی تیار کردہ رپورٹ اسرائیل کو امریکی فوجی امداد اور ہتھیاروں کی منتقلی، اکتوبر 2023-ستمبر 2025 جاری کی ہے ۔جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ہتھیاروں اور پیسے کے بغیر اسرائیل غزہ پر اپنی نسل کشی کی جنگ کو برقرار رکھنے، ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے یا یمن پر بار بار بمباری کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔

https://www.youtube.com/watch?v=w-RuArnNW8c&t=5s
رپورٹ کے نتائج کے بارے میںتجزیہ کاروں نے بھی تصدیق کی ہے کہ غزہ اور وسیع خطے میں اسرائیل کی جنگیں امریکی مالی اور سفارتی مدد کے بغیر جاری نہیں رہ سکتی تھیں۔
ہارٹنگ کی رپورٹ بیان کرتی ہےموجودہ اور مستقبل کے اخراجات کے پیمانے کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ اسرائیلی فوج جنگ میں وہ نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی جو اس نے غزہ میں کیا ہے یا اسرائیل امریکی مالی امداد، ہتھیاروں اور سیاسی مدد کے بغیر پورے خطے میں اپنی عسکری سرگرمیاں نہیں بڑھا سکتا تھا۔
ہارٹنگ کی رپورٹ کے ساتھ ہارورڈ کینیڈی اسکول میں بجٹ اور پبلک فنانس کی ماہر لنڈا جے بلمز کی رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ امریکہ نے 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی فوجی امداد اور خطے میں امریکی فوجی کارروائیو ںمیں 31.35 سے 33.77 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں اور یہ گنتی ابھی جاری ہے۔
نئی شائع ہونے والی دونوں رپورٹوں میںشامل اعدادوشماریہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل کے لیے امریکی حمایت نے اسے دو سال تک متعدد محاذوں پر جنگ جاری رکھنے میں کس طرح مدد کی ہے۔ جبکہ حکومتی ذرائع اور تجزیہ کاروں نے رپورٹوں کے نتائج کی تصدیق کی ہے۔
انکا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ اور دیگر جگہوں پر ضرورت سے زیادہ مقدار میں آرڈیننس گرا دیا ہے۔اسرائیل مخصوص ہتھیار اور ٹیکنالوجی تیار کرتا ہے۔ لیکن بم نہیں بناتا۔ اس لیے امریکہ کے بغیر وہ ان بموں کو نہیں گرا سکتا تھا۔امریکہ طویل عرصے سے اسرائیل کا پرجوش حمایتی رہا ہے۔ جب بات امریکی غیر ملکی امداد کی ہو تو اسرائیل سب سے بڑا وصول کنندہ ہے۔جسےتقریباً 3.3 ارب ڈالر سالانہ امداد ملتی ہے۔ اور اپنے قیام سے 2022 تک 150 ارب ڈالر سے زیادہ کی سب سے بڑی رقم کا وصول کنندہ ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ امریکہ میں حکومتیں بدلنے کا اسرائیل کے لئے امریکی مالی ، سفارتی اور فوجی امداد پر کبھی کوئی اثر نہیں پڑا۔
ہارٹنگ کی رپورٹ میں خاص طور پر اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کی انتظامیہ نے دسیوں ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے کیے ہیں۔ جن میں خدمات اور ہتھیار شامل ہیں جن کی ادائیگی تین دہائیوں بعد کی جائے گی۔
لنڈا کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ امریکیوں کے پاس کسی بھی جدید ملک کے مقابلے میں سب سے پتلا سماجی تحفظ کا جال ہے۔ مگر کسی نہ کسی طرح ہم ہمیشہ اسرائیل کی مختلف جنگوں میں مدد کرنے کے لیے اربوں ڈالر تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔جس نے کبھی گھریلو بجٹ بنانے کی کوشش کی ہے وہ دیکھ سکتا ہے کہ یہ کتنا مضحکہ خیز ہے۔ لیکن یہ امریکی سیاست کی وسیع تر بدعنوانی کا بھی عکاس ہے۔
تاہم اب بہت سے امریکیوں نے اسرائیل کے بارے میں مرکزی دھارے کی پوزیشن سے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں، جیسا کہ اسکالرز نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کو نسل کشی قرار دیا ہے، امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں عوامی تاثر کو شدید تنزلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اوریہ تاثر امریکی یہودیوں میں بھی بڑھ رہاہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، 10 میں سے 4 امریکی یہودیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے۔ جب کہ 60 فیصد سے زیادہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
یاد رہے اکتوبر 2023 سے اب تک صرف غزہ پر اسرائیل کی جنگ میں کم از کم 67,160 افرادجاں بحق اور 169,679 زخمی ہو چکے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ ہزاروں اب بھی غزہ کی پٹی کے کھنڈرات کے نیچے ہیں۔

موضوعات : addamericagazahamasisrealmiddleeast
ShareSend

متعلقہ خبریں

Donald Trump exposes India's trade duplicity
تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کا تجارت میں دوغلا پن بے نقاب کر دیا

5 جون , 2026
Israel and Lebanon agree to ceasefire under US mediation
تازہ ترین

امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق

4 جون , 2026
Talks with Iran are going well, says Donald Trump
اہم ترین

ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے جا رہے ہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ

4 جون , 2026
War breaks out again in the Middle East
تازہ ترین

مشرق وسطیٰ میں پھر جنگ شروع

3 جون , 2026
Israeli aggression in Lebanon hinders Iran-US relations
تازہ ترین

لبنان میں اسرائیلی جارحیت ایران امریکا رابطوں میں رکاوٹ

2 جون , 2026
ایران نے کویت پر حملہ کرکے ملکی خود مختاری اور عالمی قانون کی خلاف ورزی کی ،سعودی عرب
اہم ترین 2

ایران نے کویت پر حملہ کرکے ملکی خود مختاری اور عالمی قانون کی خلاف ورزی کی ،سعودی عرب

1 جون , 2026
اگلی خبر
جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلیے قومی ٹیم مینجمنٹ کا اعلان

جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلیے قومی ٹیم مینجمنٹ کا اعلان

یہ بھی پڑھیں

Presidential reference on refugee seats in Azad Kashmir, Supreme Court reserves decision

آزاد کشمیر میں مہاجر نشستوں کا صدارتی ریفرنس ،سپریم کورٹ میں فیصلہ محفوظ

6 جون , 2026
Interior Minister Mohsin Naqvi to leave for Iran today

وزیر داخلہ محسن نقوی آج ایران روانہ ہوں گے

6 جون , 2026
24 seats, 396 candidates, power struggle in Gilgit-Baltistan

24نشستیں ،396امیدوار ،گلگت بلتستان میں اقتدار کی جنگ

6 جون , 2026
China takes another leap into space, sends 36 new satellites into orbit

چین کی خلا میں ایک اور چھلانگ ،36نئے سیٹلائٹس مدار میں پہنچا دیئے

6 جون , 2026
Punjab Chief Minister Maryam Nawaz's farmer-friendly vision, model agriculture mall functional in 4 districts

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کسان دوست ویژن،4اضلاع میں ماڈل ایگریکلچر مال فنکشنل

6 جون , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2025 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2025 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔