
از: سہیل شہریار
اکتوبر 2023 سے اب تک امریکہ کی 21 ارب ڈالر سے زیادہ کی جنگی اخراجات کے لئے اہم مالی مدد کے بغیر اسرائیل غزہ اور مشرق وسطیٰ میں اپنی جنگوں کو برقرار نہیں رکھ سکتا تھا۔یہ ہے وہ نتیجہ جو دو معروف امریکی اداروں کی تازہ ترین رپورٹس میں پیش کیا گیا ہے۔
براؤن یونیورسٹی کے کاسٹ آف وار پراجیکٹ اور کونسی انسٹی ٹیوٹ نے مشترکہ طور پر ولیم ہارسی انسٹی ٹیوٹ میں ایک سینئر ریسرچ فیلو ولیم ڈی ہارٹنگ کی تیار کردہ رپورٹ اسرائیل کو امریکی فوجی امداد اور ہتھیاروں کی منتقلی، اکتوبر 2023-ستمبر 2025 جاری کی ہے ۔جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ہتھیاروں اور پیسے کے بغیر اسرائیل غزہ پر اپنی نسل کشی کی جنگ کو برقرار رکھنے، ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے یا یمن پر بار بار بمباری کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔
https://www.youtube.com/watch?v=w-RuArnNW8c&t=5s
رپورٹ کے نتائج کے بارے میںتجزیہ کاروں نے بھی تصدیق کی ہے کہ غزہ اور وسیع خطے میں اسرائیل کی جنگیں امریکی مالی اور سفارتی مدد کے بغیر جاری نہیں رہ سکتی تھیں۔
ہارٹنگ کی رپورٹ بیان کرتی ہےموجودہ اور مستقبل کے اخراجات کے پیمانے کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ اسرائیلی فوج جنگ میں وہ نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی جو اس نے غزہ میں کیا ہے یا اسرائیل امریکی مالی امداد، ہتھیاروں اور سیاسی مدد کے بغیر پورے خطے میں اپنی عسکری سرگرمیاں نہیں بڑھا سکتا تھا۔
ہارٹنگ کی رپورٹ کے ساتھ ہارورڈ کینیڈی اسکول میں بجٹ اور پبلک فنانس کی ماہر لنڈا جے بلمز کی رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ امریکہ نے 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی فوجی امداد اور خطے میں امریکی فوجی کارروائیو ںمیں 31.35 سے 33.77 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں اور یہ گنتی ابھی جاری ہے۔
نئی شائع ہونے والی دونوں رپورٹوں میںشامل اعدادوشماریہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل کے لیے امریکی حمایت نے اسے دو سال تک متعدد محاذوں پر جنگ جاری رکھنے میں کس طرح مدد کی ہے۔ جبکہ حکومتی ذرائع اور تجزیہ کاروں نے رپورٹوں کے نتائج کی تصدیق کی ہے۔
انکا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ اور دیگر جگہوں پر ضرورت سے زیادہ مقدار میں آرڈیننس گرا دیا ہے۔اسرائیل مخصوص ہتھیار اور ٹیکنالوجی تیار کرتا ہے۔ لیکن بم نہیں بناتا۔ اس لیے امریکہ کے بغیر وہ ان بموں کو نہیں گرا سکتا تھا۔امریکہ طویل عرصے سے اسرائیل کا پرجوش حمایتی رہا ہے۔ جب بات امریکی غیر ملکی امداد کی ہو تو اسرائیل سب سے بڑا وصول کنندہ ہے۔جسےتقریباً 3.3 ارب ڈالر سالانہ امداد ملتی ہے۔ اور اپنے قیام سے 2022 تک 150 ارب ڈالر سے زیادہ کی سب سے بڑی رقم کا وصول کنندہ ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ امریکہ میں حکومتیں بدلنے کا اسرائیل کے لئے امریکی مالی ، سفارتی اور فوجی امداد پر کبھی کوئی اثر نہیں پڑا۔
ہارٹنگ کی رپورٹ میں خاص طور پر اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کی انتظامیہ نے دسیوں ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے کیے ہیں۔ جن میں خدمات اور ہتھیار شامل ہیں جن کی ادائیگی تین دہائیوں بعد کی جائے گی۔
لنڈا کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ امریکیوں کے پاس کسی بھی جدید ملک کے مقابلے میں سب سے پتلا سماجی تحفظ کا جال ہے۔ مگر کسی نہ کسی طرح ہم ہمیشہ اسرائیل کی مختلف جنگوں میں مدد کرنے کے لیے اربوں ڈالر تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔جس نے کبھی گھریلو بجٹ بنانے کی کوشش کی ہے وہ دیکھ سکتا ہے کہ یہ کتنا مضحکہ خیز ہے۔ لیکن یہ امریکی سیاست کی وسیع تر بدعنوانی کا بھی عکاس ہے۔
تاہم اب بہت سے امریکیوں نے اسرائیل کے بارے میں مرکزی دھارے کی پوزیشن سے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں، جیسا کہ اسکالرز نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کو نسل کشی قرار دیا ہے، امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں عوامی تاثر کو شدید تنزلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اوریہ تاثر امریکی یہودیوں میں بھی بڑھ رہاہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، 10 میں سے 4 امریکی یہودیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے۔ جب کہ 60 فیصد سے زیادہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
یاد رہے اکتوبر 2023 سے اب تک صرف غزہ پر اسرائیل کی جنگ میں کم از کم 67,160 افرادجاں بحق اور 169,679 زخمی ہو چکے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ ہزاروں اب بھی غزہ کی پٹی کے کھنڈرات کے نیچے ہیں۔












