نیویارک : (پاک ترک نیوز)اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے حقوق کو منظم انداز میں “دبا” رہا ہے اور وہاں نافذ نظام نسلی امتیاز پر مبنی اپارتھائیڈ سے مشابہت رکھتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ایک نئی رپورٹ میں اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں قائم تمام غیر قانونی آبادیاں (سیٹلمنٹس) ختم کرے۔
رپورٹ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں کو “منظم امتیاز” قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چیک پوسٹس کے ذریعے نقل و حرکت پر پابندیاں، سڑکوں، قدرتی وسائل، زمین اور بنیادی سماجی سہولیات تک محدود رسائی فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر رہی ہے۔
وولکر ترک نے بیان میں کہا، “مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے حقوق کو منظم طور پر دبایا جا رہا ہے۔ یہ نسلی امتیاز اور علیحدگی کی ایک نہایت شدید شکل ہے جو ماضی میں دیکھے گئے اپارتھائیڈ نظام سے ملتی جلتی ہے۔”
یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ کے کسی اعلیٰ انسانی حقوق سربراہ نے باضابطہ طور پر مغربی کنارے کی صورتحال کو “اپارتھائیڈ” قرار دیا ہے، حالانکہ اس سے قبل اقوام متحدہ سے وابستہ آزاد ماہرین یہی اصطلاح استعمال کر چکے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قوانین اور پالیسیاں فلسطینیوں اور یہودی آبادکاروں کے لیے دو الگ قانونی نظام نافذ کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں زمینوں کی بڑے پیمانے پر ضبطی، وسائل تک رسائی سے محرومی اور فوجی عدالتوں میں غیر منصفانہ مقدمات جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ نے یہ بھی کہا کہ یہ امتیاز بڑھتی ہوئی آبادکار تشدد سے مزید سنگین ہو رہا ہے، جس میں بعض مواقع پر اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی خاموش حمایت یا شرکت دیکھی گئی ہے۔ اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی پالیسیاں نسلی نہیں بلکہ سیکیورٹی خدشات پر مبنی ہیں۔












