لاہور( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اصطلاح اکثر سننے کو ملتی ہے جسے گریٹر اسرائیل کہا جاتا ہے۔یہ اصطلاح اکثر تنازعات اور جنگوں کے تناظر میں زیرِ بحث آتی ہے۔سوال یہ ہے کہ گریٹر اسرائیل منصوبہ کیا ہے؟ کیا واقعی ایسا کوئی منصوبہ موجود ہے یا یہ صرف ایک نظریہ ہے؟
گریٹر اسرائیل ایک ایسا نظریہ یا تصور ہے جس کے مطابق اسرائیل کی سرحدیں موجودہ ریاست سے کہیں زیادہ وسیع ہونی چاہئیں۔ اس نظریے کے مطابق اسرائیل کی سرحدیں تاریخی یا مذہبی دعووں کی بنیاد پر وسیع ہو کر دریائے نیل سے دریائے فرات تک پھیل سکتی ہیں۔
گریٹر اسرائیل کے مجوزے نقشے میں اردن ،لبنان ،شام ،مصر ،عراق کے بعض علاقے شامل کیے جائیں گے ،اسرائیل کے انتہا پسند حلقے گریٹر اسرائیل منصوبے کے حمایتی ہیں ۔
صہیونی تحریک دراصل ایک سیاسی تحریک تھی جس کا مقصد یہودیوں کے لیے ایک قومی ریاست قائم کرنا تھا۔یہ تحریک 1948 میں اس وقت کامیاب ہوئی جب اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔اس کے بعد خطے میں کئی جنگیں ہوئیں ۔ اسرائیل کا ہمیشہ سے خواب رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک اسرائیل کے زیر سایہ رہیں ، امریکہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے اسرائیل کو مکمل قوت بھی فراہم کرتا ہے
دوسری طرف عالمی سطح پر زیادہ تر ممالک دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں ،جس کے مطابق اسرائیل اور فلسطین کی الگ الگ ریاستیں ہونی چاہیئں ۔
تجزیہ کاروں کے مطابق گریٹر اسرائیل کوئی سرکاری یا باضابطہ ریاستی منصوبہ نہیں ہے۔اسرائیل کی حکومتوں نے باضابطہ طور پر ایسی کسی بڑی توسیعی ریاست کا اعلان نہیں کیا۔












