تہران ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی جزائر قشم اور کیش پر دھماکے، بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات پر حملوں کے دعوے، آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دیکھیے یہ رپورٹ۔
امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی اور بحری کارروائیوں کی ایک اور بڑی لہر مکمل کرنے کا اعلان کر دیا۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں نے تقریباً سات گھنٹے تک ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
قشم اور کیش کے ایرانی جزائر دھماکوں سے گونج اٹھے، جبکہ اطلاعات کے مطابق امریکی میزائل پانی اور بجلی کی تنصیبات کے قریب گرے۔ بعض علاقوں میں پاور اسٹیشن کو بھی نقصان پہنچا جبکہ متعدد کشتیوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی دفاعی نظام اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی عسکری طاقت کو مزید محدود کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی کارروائیاں ختم ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی ، پاسداران انقلاب
ادھر ایران نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے بیس پر حملہ کیا گیا، جہاں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، بحری معاونتی مراکز، گوداموں اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کویت میں امریکی فوج کے مرکزی لاجسٹک اور سپورٹ مرکز پر بھی حملہ کیا گیا، جبکہ کویت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے متعدد بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے۔ کویتی حکام کے مطابق ایک نیول جہاز پر حملے میں چار اہلکار زخمی ہوئے۔
ایران نے اردن کے شہر الازراق میں امریکی تنصیبات پر ڈرون حملوں کا بھی دعویٰ کیا، جبکہ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اگر مزید حملے کیے گئے تو ان کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو بجلی گھروں، پلوں اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے، تاہم اگر ضرورت پڑی تو مزید اہداف پر بھی حملے کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک وہ خود انہیں روکنے کا فیصلہ نہیں کرتے












