لاہور( پاک ترک نیوز)
کم جونگ اُن’ کے بارے میں گردش کرنے والی کہانیوں کو مجموعی طور پر دیکھتے ہیں تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ ایران کی جنگ کے حوالے سے بظاہر انہوں نے یہ کہا تھا کہ میرے لوگ ایران کے اندر موجود ہیں، لیکن اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی کچھ ہوا تو میں بغیر پوچھے اس جنگ میں کود جاؤں گا۔
اس کے بعد بہت سی میمز بنیں کہ ان کے پاس میزائل موجود ہیں اور وہ آس پاس بیٹھے اپنا کوئی دشمن تلاش کر رہے ہیں۔ ایک میم میں یہ بھی دکھایا گیا کہ وہ اپنے کسی سینئر کمانڈر سے کہہ رہے ہیں کہ ایک میزائل ادھر چلا دو اور کہہ دو کہ اسے اسرائیل نے چلایا ہے۔ اس طرح مزاحیہ انداز میں شمالی کوریا کے بارے میں مختلف باتیں پھیلائی گئیں۔
دنیا کے بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ کم جونگ اُن کو اکثر دو مختلف انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ ایک سخت اور غیر متوقع حکمران کے طور پر دکھائے جاتے ہیں جو ایٹمی طاقت کے ذریعے دنیا کو دھمکا سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف سوشل میڈیا پر انہیں ایک عجیب و غریب کردار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کے فیصلے سن کر لوگ ہنس پڑتے ہیں۔
یعنی ایسا شخص جس کے ہاتھ میں اگر بٹن ہو تو شاید وہ کسی بھی وقت اسے دبا دے، اور یہ ٹیکنالوجی ایک ایسے ملک کے پاس موجود ہے۔ حقیقت شاید ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ وہ ایک ایسے ملک کے سربراہ ہیں جو عالمی سیاست میں ایک حساس مقام رکھتا ہے، اور اسی وجہ سے ان کی ہر حرکت کو دنیا بھر میں بہت زیادہ توجہ ملتی ہے۔
شمالی کوریا نے جب اپنے جدید بین البراعظمی میزائل یعنی انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائل (ICBM) کا تجربہ کیا تو انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کوئی غلط فیصلہ کیا تو شمالی کوریا سخت اور فیصلہ کن جواب دے گا۔












