اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) جمعیت علمائے پاکستان کی مرکزی قیادت نے جیو نیوز پر نشر ہونے والے متنازع پروگرام میں مقدس ہستیوں کی فرضی عکسبندی اور توہین آمیز مواد کی تشہیر پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی عالمی سازش قرار دیا ہے۔
جے یو پی کے مرکزی رہنماؤں نے مشترکہ جامع اعلامیہ جاری کرتے ہوئے حکومت اور مقتدر حلقوں سے فوری اور سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکزی سیکرٹری جنرل جے یو پی صاحبزادہ پیر سید محمد صفدر شاہ گیلانی اور مرکزی نائب صدر جمعیت علمائے پاکستان صاحبزادہ غلام قطب الدین سیالوی نے مشترکہ ہنگامی بیان میں کہا اہل سنت وجماعت مقدساتِ دین، اہل بیتِ اطہارؑ اور صحابہ کرامؓ کی ناموس اور تعظیم پر کسی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔
صاحبزادہ صفدر شاہ گیلانی نے کہابیرونی ثقافت اور متنازع روایات کو اسلامی شعائر کے نام پر دستاویزی شکل میں دکھانا آزادیِ اظہار نہیں بلکہ صریح توہین ہے۔ انہوں نے پیمرا کی جانب سے چینل کے لائسنس کی محض 15 روزہ معطلی کو لالی پاپ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ایسی سطحی معذرتیں یا عارضی پابندیاں کافی نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم 3جولائی کو تہران جائیں گے
جمعیت علمائے پاکستان کے سینئر رہنما صاحبزادہ ظفر عباس سیالوی نے کہا کہ اس قبیح فعل میں ملوث جیو نیوز کی پوری پروڈکشن ٹیم، اینکرز اور ادارتی بورڈ کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کے تحت سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی میڈیا ہاؤس سستی ریٹنگ اور بیرونی ایجنڈے کی خاطر مسلمانوں کے عقائد سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔
مرکزی سیکرٹری امورِ نوجوانان جے یو پی محمد عثمان سیالوی ایڈووکیٹ نے نوجوانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ایسے فتنہ انگیز مواد کی مستقل روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے، تو ملک بھر کا نوجوان طبقہ سڑکوں پر ہوگا اور جمعیت علمائے پاکستان کے پلیٹ فارم سے ایک ایسی شدید ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور حکومت پر عائد ہوگی۔
جے یو پی قائدین نے مطالبہ کیا کہ جیو نیوز کا نشریاتی لائسنس فوری اور مستقل طور پر کینسل کیا جائے۔ اس گھناؤنی سازش کے تمام کرداروں پر دفعہ 295-C اور توہینِ مذہب کے دیگر قوانین کے تحت مقدمات درج کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔میڈیا پر اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے سنسرشپ کے قوانین کو مزید سخت کیا جائے۔






