فن لینڈ (پاک ترک نیوز )خلیج فن لینڈ میں روسی بندرگاہوں کی جانب جانے والے تقریباً 150 بحری جہاز پھنس گئے، بحری جہازوں کی قطاریں کئی کلومیٹر تک پھیل گئی ہیں جبکہ ایک قطار تقریباً 50 کلومیٹر طویل بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق روس کی جانب سے بحیرہ اسود سے مال برداری کا رخ بحیرہ بالٹک کی طرف موڑنے کے باعث خلیج فن لینڈ میں بحری آمدورفت کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
یہ تبدیلی بحیرہ اسود میں روسی بحری جہازوں اور بندرگاہوں پر یوکرین کے ڈرون اور میزائل حملوں کے تناظر میں کی گئی ہے۔ یوکرین کی جانب سے بحیرہ اسود میں روسی جہازوں کے ساتھ ساتھ نووروسیسک جیسی اہم بندرگاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جو روسی تیل کی برآمدات کے لیے اہم بندرگاہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے بحیرہ اسود کے راستے روسی ڈیزل اور گیس آئل کی ترسیل پہلی مرتبہ مکمل طور پر رک گئی۔
روسی حکام بحیرہ بالٹک اور آرکٹک کے بعض ایسے مراکز کو بھی اناج کی ترسیل کے لیے استعمال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جو پہلے معدنیات، کوئلہ اور کھاد کی ترسیل کے لیے مختص تھے۔
پھنسے ہوئے تقریباً 150 جہازوں میں سے 65 تیل بردار جہاز ہیں جبکہ باقی مال بردار جہاز ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان میں سے بیشتر جہازوں کے نام یوکرین کی اس فہرست میں شامل ہیں جن پر یوکرینی قوانین کی خلاف ورزی، اناج کی غیر قانونی ترسیل، ہتھیاروں کی نقل و حمل یا مغربی پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
خلیج فن لینڈ کے ساحلی محافظوں کے مطابق صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے اور آبی گزرگاہ کو معمول پر آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ادھر روسی بندرگاہوں کے باہر بھی بحری جہازوں کی طویل قطاریں موجود ہیں اور جہاز مقررہ نظام الاوقات کے مطابق بندرگاہوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ روسی بندرگاہ اوست لوگا پر بحری جہازوں کا انتظار پانچ دن تک بڑھ گیا ہے۔
خلیج فن لینڈ کے ساحلی محافظوں کے نائب کمانڈر سامی یارونپا کے مطابق موجودہ صورتحال غیر معمولی نہیں، آنے والے ہفتوں میں حالات معمول پر آ سکتے ہیں اور فی الحال اضافی کارروائی یا مزید نفری تعینات کرنے کی ضرورت نہیں۔











