بیجنگ : (پاک ترک نیوز)چین کے صوبے فوجیان کے شہر لونگیان میں ایک رات کے اندر ایسا ریلوے کارنامہ انجام دیا گیا جس نے انجینئرنگ کی دنیا کو حیران کر دیا۔
تقریباً 1500 مزدوروں نے شام 6 بج کر 30 منٹ سے لے کر صبح 3 بجے تک صرف 9 گھنٹوں میں نان لونگ ہائی اسپیڈ ریلوے لنک کو مکمل طور پر جوڑ دیا، جس کے بعد وہ سفر جو پہلے 7گھنٹے میں طے ہوتا تھا اب صرف 90 منٹ میں مکمل ہو رہا ہے اور ٹرینوں کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی ہے۔
اس آپریشن میں 7 تعمیراتی ٹرینیں اور 23 ایکسکیویٹرز استعمال کیے گئے جبکہ کارکنوں کو مختلف شفٹوں میں تقسیم کرکے انتہائی منظم انداز میں کام کیا گیا۔
اس حیران کن رفتار کے پیچھے کئی ماہ کی منصوبہ بندی تھی جس میں پہلے سے کنکریٹ کی بنیادیں تیار کرنا، ٹریک پینلز کو موقع پر پہنچانا، سگنلنگ اور کمیونیکیشن سسٹم کی تنصیب اور ہر مرحلے کی منٹوں کے حساب سے ریہرسل شامل تھی تاکہ کام کے آغاز کے ساتھ ہی ٹرینوں کی روانی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
اس منصوبے کے بعد لونگیان ایک اہم ریلوے جنکشن بن گیا ہے جو 3 بڑی ریلوے لائنوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اس سے نا صرف مسافروں کو تیز رفتار سفر کی سہولت ملے گی بلکہ سامان کی ترسیل، روزگار کے مواقع اور ساحلی شہروں سے رابطہ بھی مزید مضبوط ہوگا۔
یہ منصوبہ چین کی اس قومی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں رابطوں کے نظام کو معاشی ترقی کا انجن سمجھا جاتا ہے اور اسی سلسلے میں 600 میٹر بلند دنیا کا سب سے اونچا پل بھی حال ہی میں مکمل کیا گیا۔
تاہم اس تیز رفتار ترقی نے کچھ اہم سوالات بھی پیدا کیے ہیں۔ مسلسل کام کرنے والے مزدوروں کی تھکن، شدید موسم میں حفاظتی اقدامات اور ماحول پر پڑنے والے اثرات جیسے جنگلات کی کٹائی، شور اور جنگلی حیات کے مسکن کی تقسیم جیسے مسائل پر بحث جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگلی حیات کے لیے کراسنگ، کم شور والی ریل ٹیکنالوجی اور سخت نگرانی جیسے اقدامات سے ان اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے، لیکن اصل امتحان اس رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے ان اصولوں پر مستقل عمل کرنا ہے۔












