لاہور( پاک ترک نیوز) زمین جسے ہم اربوں سال سے ایک مضبوط اور ساکن سیارہ سمجھتے آئے ہیں۔۔۔لیکن اگر یہی زمین اپنے مرکز سے ہل رہی ہو تو؟ناسا نے ایسا انکشاف کردیا ہے جس نے سائنس کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔۔۔زمین کا مرکزِ کمیت ہر سال اپنی جگہ بدلتا ہے، مگر آخر کیوں؟یہ زمین ہے۔۔۔بظاہر پرسکون۔۔۔مگر اس کے اندر اور اس کی سطح پر ہر لمحہ کچھ نہ کچھ بدل رہا ہے۔برف پگھلتی ہے۔۔۔بارش ہوتی ہے۔۔۔
دریاؤں میں پانی بڑھتا ہے۔۔۔سمندر اپنا پانی ایک خطے سے دوسرے خطے تک منتقل کرتے ہیں۔۔۔اور فضا میں موجود ہوا بھی موسم کے ساتھ اپنا وزن بدلتی رہتی ہے۔یہ سب معمولی تبدیلیاں مل کر زمین کے مرکزِ کمیت کو حرکت دینے لگتی ہیں۔ناسا کے سائنس دانوں نے انتہائی حساس سیاروی نگرانی کی مدد سے اس حرکت کو ناپنے کا نیا طریقہ تیار کیا ہے۔
تحقیق کے مطابق زمین کا مرکزِ کمیت، زمین کے ہندسی مرکز کے گرد ہر سال چند ملی میٹر آگے پیچھے ہوتا ہے۔لیکن اصل حیرت ابھی باقی ہے۔۔۔شمالی امریکا اور یوریشیا میں مارچ کے دوران برف کی بڑی مقدار جمع ہوتی ہے، جس سے مرکزِ کمیت تقریباً تین ملی میٹر شمالی قطب کی جانب منتقل ہوتا ہے۔اپریل میں دریائے ایمیزون کے خطے میں بارش کا پانی تقریباً 24 سو ارب ٹن تک پہنچ جاتا ہے۔۔۔اور زمین کے مرکزِ کمیت کو تقریباً 2.2 ملی میٹر جنوبی امریکا کی جانب کھینچ لیتا ہے۔نومبر میں جنوب مشرقی ایشیا کا مون سون بھی اپنا وزن دکھاتا ہے۔۔۔جبکہ اگست سے اکتوبر تک بارش اور پگھلی ہوئی برف کا پانی سمندروں میں شامل ہوکر زمین کے توازن کو مزید متاثر کرتا ہے۔اور اس پوری کہانی میں بحرالکاہل کا کردار سب سے نمایاں ہے۔۔۔کیونکہ یہ اتنا وسیع ہے کہ اس کے پانی میں معمولی تبدیلی بھی زمین کے مرکزِ کمیت پر اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مراکش اور فرانس کے درمیان دفاعی شراکت داری
تحقیق کے مطابق زمین کا مرکزِ کمیت، زمین کے ہندسی مرکز کے گرد ہر سال چند ملی میٹر آگے پیچھے ہوتا ہے۔لیکن اصل حیرت ابھی باقی ہے۔۔۔شمالی امریکا اور یوریشیا میں مارچ کے دوران برف کی بڑی مقدار جمع ہوتی ہے، جس سے مرکزِ کمیت تقریباً تین ملی میٹر شمالی قطب کی جانب منتقل ہوتا ہے۔اپریل میں دریائے ایمیزون کے خطے میں بارش کا پانی تقریباً 24 سو ارب ٹن تک پہنچ جاتا ہے۔۔۔اور زمین کے مرکزِ کمیت کو تقریباً 2.2 ملی میٹر جنوبی امریکا کی جانب کھینچ لیتا ہے۔نومبر میں جنوب مشرقی ایشیا کا مون سون بھی اپنا وزن دکھاتا ہے۔۔۔جبکہ اگست سے اکتوبر تک بارش اور پگھلی ہوئی برف کا پانی سمندروں میں شامل ہوکر زمین کے توازن کو مزید متاثر کرتا ہے۔
اور اس پوری کہانی میں بحرالکاہل کا کردار سب سے نمایاں ہے۔۔۔کیونکہ یہ اتنا وسیع ہے کہ اس کے پانی میں معمولی تبدیلی بھی زمین کے مرکزِ کمیت پر اثر ڈال سکتی ہے۔ناسا کے مطابق یہ حرکت اگرچہ صرف چند ملی میٹر ہے۔۔۔لیکن جدید دنیا کے لیے اس کی اہمیت بہت بڑی ہے۔مصنوعی سیاروں کی رہنمائی۔۔۔انتہائی درست نقشہ سازی۔۔۔بحری نقل و حمل۔۔۔اور جدید مقامی نظام۔۔۔سب زمین کے انتہائی درست حوالوں پر انحصار کرتے ہیں۔
یعنی زمین اپنی جگہ موجود ہے۔۔۔مگر اس کا مرکز ہر موسم کے ساتھ معمولی سا راستہ بدل رہا ہے












