
از: سہیل شہریار
پاکستان کے طول وعرض میں موسلا دھار بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ و سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، مختلف حادثات و واقعات میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے، جبکہ ہزاروں سیاح اور مقامی افراد سڑکوں کی بندش کے باعث پھنس کر رہ گئے تھے۔
ضلع چلاس میں سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے سے اب تک کم از کم چار لاشوں کو نکالا جا چکا ہے جن میں ایک خاتون اور تین مرد شامل ہیں جبکہ ریسیکو 1122 اور گلگت بلتستان حکومت کے مطابق کم از کم پندرہ کے قریب زخمی ہیں اور تیس سے زائد لاپتا ہیں۔
پاکستان جس کی آبادی اب 25 کروڑ سے زیادہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک ممالک میں سے ایک ہے۔نئی دہائی کے آغاز سے اب تک ملک نےبارہا ماحولیاتی آفات کا سامنا کیا ہے۔جن میں خاص طور پر 2022 کا سیلاب تباہ کن تھا۔ جس میں تقریباً 17سو افرادجاںحق اورتین کروڑ سے زیاد بے گھر ہوئے۔اسی کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں مویشی اور لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں سیلاب کا نشانہ بنیں۔ اس سیلاب سے پہنچنے والے معاشی نقصانات کا تخمینہ 15ارب ڈالر سے زیادہ کا ہے۔
پاکستان اور اس جیسے کئی ترقی پزیر ممالک موسمیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی راہ میں حائل مشکلات کا ذمہ دار امیر ملکوں اوربین الاقوامی برادری کی جانب سے امداد کی کمی کوقرار دے رہے ہیں۔ جو ان ملکوں میں ہر سال سیلابوں اور دیگر آفات سے مزید جانی و مالی نقصانات کا سبب بن رہی ہے۔
پاکستان کی بات کی جائے تو ملک میں تباہ کاریوں سے نمٹنے کے ذمہ دار ادارے این ڈی ایم اے کے تازہ ترین اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 24 جون سے اب تک ہونے والی 115سے زیادہ اموات میں پنجاب اور خیبرپختونخوا نشانہ بنے ہیں۔
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے ضمن میں بادلوں کے پھٹنے سے آنے والے اچانک سیلابی ریلوں کا سب سے زیادہ سامنا ہے ۔جس کے پے در پے واقعات پورے ملک میں رونما ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر ملک کے شمالی علاقہ جات اس سے بری طرح متاثر ہو ئے ہیں۔ اس کا تازہ واقعہ بابوسر ٹاپ پر فلیش فلڈہے۔اس سے پہلے راولپنڈی اور اسلام آباد اور اس سے پہلے کشمیرمیں مظفرآباد اور ملحقہ علاقے ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہو چکے ہیں۔این ڈی ایم اےکی رپورٹ کے مطابق اس سال تقریباً دو تہائی اموات مکانات کے گرنے اور سیلابمیں لوگوں اور مکانات کے بہہ جانے کے باعث ہوئیں۔ جب کہ ڈوبنے سے ہونے والی اموات 10 میں سے صرف ایک سے زیادہ نہیںتھیں۔ وفاقی حکومت کو بھجوائی گئی ایک رپورٹ میں این ڈی ایم اے نے آگاہ کیا ہے کہ موسمی پیشن گوئی کے مطابق اس برس 2022کی طرح بڑے پیمانے پر دریائی سیلاب” کےآنے کی توقع نہیںہے۔
پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک عام طور پر مون سون کے موسم میں اپنی سالانہ بارش کا 70 سے 80 فیصد حاصل کرتے ہیں۔ اور ان بارشوں کا سلسلہ جون کے آخر سے ستمبر تک جاری رہتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں کو دنیا کے کئی بڑے گلیشیرز سمیت 13ہزار گلیشیرز کا گھر ہونے کی بنا "تیسرا قطب” بھی کہا جاتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال مون سون کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو گلگت بلتستان کے علاقے میں شدید گرمی کی وجہ سے گلیشیر پگھلنے نے بڑھا دیا ہے۔
پاکستان 2022میںہونے والے شدید جانی ومالی نقصانات کے بعد سے ہر عالمی فورم پر کہتا آ رہا ہے کہ عالمی برادری مدد کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی۔ کیونکہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس کے اخراج کا صرف نصف فیصد ذمہ دار ہے۔مگر موسمیاتی آفات سے ملک میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات 15 گنا زیادہ ہیں۔
ماہرین کی جانب سے لگائے گئے تخمینوں کے مطابق پاکستان کوموسمیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے 2050 تک 40سے 50ارب ڈالرز کی اضافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔جبکہ 2024 کے اختتام تک پاکستان کو امیر ملکوں کی جانب سے قرضوں کی صورت میں صرف 2.8 ارب ڈالر ملے تھے۔ اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے دو ارب ڈالر سے زائد کی الگ رقم فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے انکار نہیں مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ پاکستان میں طویل عرصے سے حکمرانی کی ناکامیوں اور ناقص پالیسی فیصلوں کی وجہ سے یہ بحران مزید سنگین ہوا ہے۔قدرتی آفات خصوصاً بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات میںزیادہ حصہ ندی نالوں اور دریاؤں کے کنارے یا قریب گھروں کی تعمیر او ر عمارتوں کی تعمیر میں ناقص میٹیریل کے استعمال کی وجہ سےہوا جنہیں سیلابی ریلے بہا کر لے گئے۔اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک بات یہ ہے کہ 2022سے سے اب تک پے در پے واقعات رونما ہونے کے باوجود نہ تو لوگوں نے خطرے والی جگہوں پر عمارات کی تعمیر بند کی ہے اور نہ ہی کسی حکومت نے اس ضمن میں پالیسی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی ہے۔












