جمعرات , 15 اکتوبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید بارشیں اور سیلاب سے ملک بھر میں تباہی ،فوری اقدامات کی ضرورت

1 سال پہلے
A A
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید بارشیں اور سیلاب سے ملک بھر میں تباہی ،فوری اقدامات کی ضرورت
Share on Facebookwhatsapp

از: سہیل شہریار

پاکستان کے طول وعرض میں موسلا دھار بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ و سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، مختلف حادثات و واقعات میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے، جبکہ ہزاروں سیاح اور مقامی افراد سڑکوں کی بندش کے باعث پھنس کر رہ گئے تھے۔
ضلع چلاس میں سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے سے اب تک کم از کم چار لاشوں کو نکالا جا چکا ہے جن میں ایک خاتون اور تین مرد شامل ہیں جبکہ ریسیکو 1122 اور گلگت بلتستان حکومت کے مطابق کم از کم پندرہ کے قریب زخمی ہیں اور تیس سے زائد لاپتا ہیں۔
پاکستان جس کی آبادی اب 25 کروڑ سے زیادہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک ممالک میں سے ایک ہے۔نئی دہائی کے آغاز سے اب تک ملک نےبارہا ماحولیاتی آفات کا سامنا کیا ہے۔جن میں خاص طور پر 2022 کا سیلاب تباہ کن تھا۔ جس میں تقریباً 17سو افرادجاںحق اورتین کروڑ سے زیاد بے گھر ہوئے۔اسی کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں مویشی اور لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں سیلاب کا نشانہ بنیں۔ اس سیلاب سے پہنچنے والے معاشی نقصانات کا تخمینہ 15ارب ڈالر سے زیادہ کا ہے۔
پاکستان اور اس جیسے کئی ترقی پزیر ممالک موسمیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی راہ میں حائل مشکلات کا ذمہ دار امیر ملکوں اوربین الاقوامی برادری کی جانب سے امداد کی کمی کوقرار دے رہے ہیں۔ جو ان ملکوں میں ہر سال سیلابوں اور دیگر آفات سے مزید جانی و مالی نقصانات کا سبب بن رہی ہے۔
پاکستان کی بات کی جائے تو ملک میں تباہ کاریوں سے نمٹنے کے ذمہ دار ادارے این ڈی ایم اے کے تازہ ترین اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 24 جون سے اب تک ہونے والی 115سے زیادہ اموات میں پنجاب اور خیبرپختونخوا نشانہ بنے ہیں۔
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے ضمن میں بادلوں کے پھٹنے سے آنے والے اچانک سیلابی ریلوں کا سب سے زیادہ سامنا ہے ۔جس کے پے در پے واقعات پورے ملک میں رونما ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر ملک کے شمالی علاقہ جات اس سے بری طرح متاثر ہو ئے ہیں۔ اس کا تازہ واقعہ بابوسر ٹاپ پر فلیش فلڈہے۔اس سے پہلے راولپنڈی اور اسلام آباد اور اس سے پہلے کشمیرمیں مظفرآباد اور ملحقہ علاقے ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہو چکے ہیں۔این ڈی ایم اےکی رپورٹ کے مطابق اس سال تقریباً دو تہائی اموات مکانات کے گرنے اور سیلابمیں لوگوں اور مکانات کے بہہ جانے کے باعث ہوئیں۔ جب کہ ڈوبنے سے ہونے والی اموات 10 میں سے صرف ایک سے زیادہ نہیںتھیں۔ وفاقی حکومت کو بھجوائی گئی ایک رپورٹ میں این ڈی ایم اے نے آگاہ کیا ہے کہ موسمی پیشن گوئی کے مطابق اس برس 2022کی طرح بڑے پیمانے پر دریائی سیلاب” کےآنے کی توقع نہیںہے۔

پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک عام طور پر مون سون کے موسم میں اپنی سالانہ بارش کا 70 سے 80 فیصد حاصل کرتے ہیں۔ اور ان بارشوں کا سلسلہ جون کے آخر سے ستمبر تک جاری رہتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں کو دنیا کے کئی بڑے گلیشیرز سمیت 13ہزار گلیشیرز کا گھر ہونے کی بنا "تیسرا قطب” بھی کہا جاتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال مون سون کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو گلگت بلتستان کے علاقے میں شدید گرمی کی وجہ سے گلیشیر پگھلنے نے بڑھا دیا ہے۔
پاکستان  2022میںہونے والے شدید جانی ومالی نقصانات کے بعد سے ہر عالمی فورم پر کہتا آ رہا ہے کہ عالمی برادری مدد کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی۔ کیونکہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس کے اخراج کا صرف نصف فیصد ذمہ دار ہے۔مگر موسمیاتی آفات سے ملک میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات 15 گنا زیادہ ہیں۔
ماہرین کی جانب سے لگائے گئے تخمینوں کے مطابق پاکستان کوموسمیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے 2050 تک 40سے 50ارب ڈالرز کی اضافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔جبکہ 2024 کے اختتام تک پاکستان کو امیر ملکوں کی جانب سے قرضوں کی صورت میں صرف 2.8 ارب ڈالر ملے تھے۔ اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے دو ارب ڈالر سے زائد کی الگ رقم فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے انکار نہیں مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ پاکستان میں طویل عرصے سے حکمرانی کی ناکامیوں اور ناقص پالیسی فیصلوں کی وجہ سے یہ بحران مزید سنگین ہوا ہے۔قدرتی آفات خصوصاً بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات میںزیادہ حصہ ندی نالوں اور دریاؤں کے کنارے یا قریب گھروں کی تعمیر او ر عمارتوں کی تعمیر میں ناقص میٹیریل کے استعمال کی وجہ سےہوا جنہیں سیلابی ریلے بہا کر لے گئے۔اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک بات یہ ہے کہ 2022سے سے اب تک پے در پے واقعات رونما ہونے کے باوجود نہ تو لوگوں نے خطرے والی جگہوں پر عمارات کی تعمیر بند کی ہے اور نہ ہی کسی حکومت نے اس ضمن میں پالیسی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی ہے۔

موضوعات : floodlandslindinrain
ShareSend

متعلقہ خبریں

Rain, strong winds and hail expected in most parts of Punjab
تازہ ترین

پنجاب کے بیشتر علاقوں میں بارش، تیز ہواؤں اور ژالہ باری کا امکان

10 اکتوبر , 2026
Clouds enter Punjab and Khyber Pakhtunkhwa, rain in many areas
تازہ ترین

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بادلوں کی انٹری، کئی علاقوں میں بارش

7 اکتوبر , 2026
Asian Games Cricket Both quarter-finals cancelled due to rain; Sri Lanka and Bangladesh advance to the semi-finals.
تازہ ترین

ایشین گیمز کرکٹ: بارش کے باعث دونوں کوارٹر فائنلز منسوخ، سری لنکا اور بنگلا دیش سیمی فائنل میں پہنچ گئے

29 ستمبر , 2026
Rain of mercy in Makkah Al-Mukarramah; Umrah pilgrims continued performing Tawaf amidst the rain.
اہم ترین 2

مکہ مکرمہ میں بارانِ رحمت، عمرہ زائرین بارش میں طواف کرتے رہے

28 ستمبر , 2026
Rainfall in different parts of the country, rain emergency declared in twin cities
تازہ ترین

ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، جڑواں شہروں میں رین ایمرجنسی نافذ

28 ستمبر , 2026
Rain has enlivened the atmosphere in Punjab, while strong winds have made the weather pleasant.
تازہ ترین

پنجاب میں بارش نے رنگ جما دیا، تیز ہواؤں سے موسم خوشگوار

17 ستمبر , 2026
اگلی خبر
راولپنڈی اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں موسلادھار بارش ، نشیبی علاقے زیر آب

راولپنڈی اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں موسلادھار بارش ، نشیبی علاقے زیر آب

یہ بھی پڑھیں

Cold drinks, energy drinks, vapes and cigarettes banned in educational institutions in Punjab

پنجاب کے تعلیمی اداروں میں کولڈ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس، گولا گنڈا اور ویپ پر پابندی

15 اکتوبر , 2026
Prime Minister meets Mahmood Achakzai in the National Assembly; renews invitation for talks.

وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں محمود اچکزئی سے ملاقات، مذاکرات کی دوبارہ دعوت

15 اکتوبر , 2026
32 children and a female teacher die in school roof collapse in Peshawar, owner arrested, committee formed to investigate

پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے 32 بچے اور خاتون ٹیچر جاں بحق، مالک گرفتار، تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم

15 اکتوبر , 2026
Major CTD operation in Swat; three terrorists from the TTP commander Muzaffar alias Khalid group killed.

سوات میں سی ٹی ڈی کا بڑا آپریشن، ٹی ٹی پی کمانڈر مظفر عرف خالد گروپ کے تین دہشت گرد ہلاک

15 اکتوبر , 2026
An attempt is being made to dismantle the political party, says Barrister Gohar.

سیاسی جماعت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، بیرسٹر گوہر

15 اکتوبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔