اسلام آباد: (پاک ترک نیوز)وفاقی حکومت نےنیکسٹ جنریشن کی موبائل سروسز کے لیے ہونے والی ملٹی بینڈ 5G اسپیکٹرم نیلامی کے بیس ریٹس کا اعلان کر دیا ہے، جس سے ٹیلی کام آپریٹرز کو مجوزہ نیلامی سے قبل مالی وضاحت اور منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق اسپیکٹرم کی بنیادی قیمتیں آکشن ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات اور ایک بین الاقوامی آزاد کنسلٹنٹ کی آراء کی بنیاد پر طے کی گئی ہیں۔
پالیسی ہدایت نامے کے تحت 700 میگا ہرٹز بینڈ میں جوڑے (paired) اسپیکٹرم کے لیے 1 میگا ہرٹز کی بیس قیمت 65 لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح 1800 میگا ہرٹز اور 2100 میگا ہرٹز بینڈز میں جوڑے اسپیکٹرم کے لیے فی 1 میگا ہرٹز بیس قیمت 1 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رکھی گئی ہے، جو موبائل براڈبینڈ کی توسیع اور تجارتی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
unpaired اسپیکٹرم کے لیے 2300 میگا ہرٹز بینڈ میں فی 1 میگا ہرٹز قیمت 10 لاکھ ڈالر، 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں 12 لاکھ 50 ہزار ڈالر جبکہ 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں 6 لاکھ 50 ہزار ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ 3500 میگا ہرٹز بینڈ کو عالمی سطح پر 5G سروسز کے لیے کلیدی فریکوئنسی سمجھا جاتا ہے۔پالیسی کے مطابق اسپیکٹرم فیس کی ادائیگی پاکستانی روپے میں کی جائے گی، جبکہ ڈالر سے روپے کا تبادلہ ریٹ نیلامی سے ایک دن قبل نیشنل بینک آف پاکستان کے ٹی ٹی سیلنگ ریٹ پر فکس کیا جائے گا تاکہ کرنسی میں اتار چڑھاؤ سے بولی دہندگان کو تحفظ دیا جا سکے۔
حکومت نے ادائیگی کے لیے لچکدار آپشنز بھی فراہم کیے ہیں۔ کامیاب کمپنی چاہے تو پوری رقم ایک سال کے اندر ادا کرے یا 50 فیصد رقم پہلے سال اور باقی 50 فیصد پانچ سالہ اقساط میں ادا کر سکتی ہے، جس پر کیبور + 3 فیصد سالانہ فنانسنگ چارج لاگو ہوگا۔
اسپیکٹرم لائسنس کی مدت 15 سال ہوگی اور پی ٹی اے کے قواعد کے تحت اسپیکٹرم ٹریڈنگ اور شیئرنگ کی بھی اجازت دی جائے گی۔ یہ فیصلہ پاکستان میں 5G سروسز کے آغاز کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔












