تہران ( پاک ترک نیوز)ایران کی سیاست کا ایک بڑا نام علی لاریجانی جنہیں ملک کے بااثر اور تجربہ کار رہنماؤں میں شمار کیا جاتا تھا ،وہ طویل عرصے تک ایران کی پارلیمنٹ، یعنی مجلسِ شوریٰ اسلامی، کے اسپیکر رہے اور ملکی پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔
علی لاریجانی 1957ء میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے، 1961ء میں خاندان کے ساتھ ایران واپس آگئے، ریاضی کی تعلیم حاصل کی، تہران یونیورسٹی سے فلسفے میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی، ان کے والد مذہبی عالم تھے، علی لاریجانی کے 4 بھائی ہیں اورسب نے ایرانی ریاستی اداروں میں اہم عہدے سنبھالے۔
1992ء میں محمد خاتمی کی جگہ وزیر ثقافت و اسلامی رہنمائی کا عہدہ سنبھالا 1994ء میں سرکاری ایرانی نشریاتی ادارے کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا، 1996ء میں خامنہ ای نے 3 سال کیلئے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ 1997ء میں مصلحت نظام کونسل کے رکن بنے، 1999 میں دوبارہ سپریم لیڈر کے نمائندے کے طور پر سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں شامل ہوئے۔
2002ء میں دوبارہ مصلحت نظام کونسل کا رکن بنایا گیا، 2004ء میں سرکاری ایرانی چینل کے ڈائریکٹر کے طور پر واپس آئے، 2005ء میں جوہری پروگرام پر یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کا انچارج مقرر کیا گیا، 2008ء میں پارلیمنٹ کے رکن بنے ۔
علی لاریجانی دو ہزار آٹھ سے دو ہزار بیس تک ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر رہے ،سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری رہے ،ایرانی جوہری مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ،سرکاری نشریاتی ادارے کے سربراہ بھی رہے ،، وہ سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کے مرحلے میں فیصلہ سازوں میں شامل تھے۔
علی لاریجانی ایک بااثر مذہبی اور سیاسی خاندان سے تعلق رکھتےتھے ،ان کے بھائی صادق لاریجانی ایران کے چیف جسٹس رہ چکے ،خاندان کے دیگر افراد بھی اہم حکومتی عہدوں پر فائز رہے ۔لاریجانی کو ایران میں ایک معتدل قدامت پسند رہنما سمجھا جاتا تھا، جو سخت گیر اور اصلاح پسند دھڑوں کے درمیان توازن رکھنے کی کوشش کرتے رہے ۔
فروری میں امریکی انتظامیہ نے علی لاریجانی پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام لگاتے ہوئے پابندیاں لگائیں ، خامنہ ای کی شہادت کے بعد لاریجانی کے بیانات سخت ہو گئے تھے












