اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مقررہ یا توسیع شدہ مدت کے بعد ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے افراد کیلئے بڑا ریلیف متعارف کرادیا۔
ایف بی آر کے مطابق ایسے افراد 25 ہزار روپے سرچارج کی ادائیگی کے بغیر فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل ہوسکیں گے، تاہم انہیں آئندہ چھ ماہ کے دوران کوئی جائیداد خریدنے یا اس میں ملکیتی مفاد حاصل نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی کرانا ہوگی۔
ایف بی آر نے انکم ٹیکس قواعد میں مجوزہ ترامیم کا مسودہ ایس آر او 1691 جاری کردیا ہے۔ترمیم کے تحت دیر سے گوشوارہ جمع کرانے والے فرد کو ایف بی آر کے آن لائن نظام کے ذریعے مخصوص فارم میں یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ یقین دہانی جمع کرانے کی تاریخ سے اگلے چھ ماہ تک وہ کسی جائیداد کو خرید، حاصل یا اس میں ملکیتی یا مفاداتی حق حاصل نہیں کرے گا۔
ایف بی آر کے مطابق سرچارج سے استثنیٰ اسی صورت برقرار رہے گا جب متعلقہ شخص چھ ماہ کی اس شرط پر مکمل عمل کرے گا۔چھ ماہ کی مدت آن لائن نظام سے یقین دہانی فارم کامیابی سے جمع ہونے کے بعد جاری ہونے والی رسید کی تاریخ سے شروع ہوگی۔
ایف بی آر کو اختیار ہوگا کہ وہ مختلف سرکاری اداروں، رجسٹریوں، مالیاتی اداروں یا دیگر قانونی ذرائع سے دستیاب معلومات کی بنیاد
یہ بھی پڑھیں :فرانس کا ایٹمی صلاحیت رکھنے والے میزائل کا سمندر سے کامیاب تجربہhttps://ptnurdu.pk/latest-news-updates/france-successfully-tests-nuclear-capable-missile-from-the-sea/پر اس یقین دہانی کی پابندی کی جانچ کرے۔
اگر معلوم ہوا کہ متعلقہ فرد نے چھ ماہ کی مدت کے دوران کوئی جائیداد خریدی یا اس میں ملکیتی یا مفاداتی حق حاصل کیا ہے تو اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں سرچارج سے حاصل ہونے والا فائدہ خلاف ورزی کی تاریخ سے ختم کردیا جائے گا، جبکہ فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شمولیت پھر عام قواعد کے تحت ہوگی۔
ایف بی آر نے ٹیکس گوشواروں کی خودکار جانچ اور نظام کی جانب سے نشاندہی کیے گئے مسائل سے متعلق اطلاع دینے کا طریقہ کار بھی جاری کردیا ہے۔
اس کے علاوہ غیر مقیم جہاز مالکان، چارٹررز یا مجاز شپنگ ایجنٹس کی جانب سے جمع کرائے جانے والے انکم ٹیکس گوشوارے سے متعلق بھی نئے قواعد جاری کیے گئے ہیں۔












