استنبول (پاک ترک نیوز )ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ منظوری کے لیے ترکیہ کی پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
معاہدہ رواں سال 7 اگست کو طے پایا تھا، جبکہ پارلیمانی منظوری کے بعد ترکیہ معاہدے کی باضابطہ توثیق کا عمل آگے بڑھا سکے گا۔
پارلیمنٹ میں منظوری کا مرحلہ 5 اکتوبر کو ریاض میں ہونے والے اتحاد کی تزویراتی، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔
اجلاس میں ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یاشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائرک تاروغلو نے سعودی عرب اور پاکستان کے متعلقہ حکام کے ساتھ شرکت کی۔
تینوں ممالک نے سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم یہ تعیناتی طے شدہ انتظامات اور ہر ملک کے قومی قوانین کے تحت ہوگی۔
مشترکہ اعلامیے میں فوجیوں کی تعداد، استعمال ہونے والے دفاعی سازوسامان یا تعیناتی کی حتمی مدت کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں :ایف بی آر کا دیر سے گوشوارے جمع کرانے والوں کو بڑا ریلیف
اتحادی ممالک نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں اور سعودی شہروں، شہری و اقتصادی تنصیبات پر جاری حملوں کی مذمت بھی کی۔ تینوں ممالک نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے
دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کے معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کا کام آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔
اجلاس میں ریٹائرڈ پاکستانی لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین سال کے لیے مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا۔
اس سے قبل 31 اگست کو استنبول میں ہونے والے اجلاس میں تینوں ممالک نے سعودی عرب میں اتحاد کا سیکریٹریٹ قائم کرنے اور دفاعی ٹیکنالوجی و مشترکہ پیداوار کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ ہاکان فیدان کے مطابق ریاض اجلاس میں یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے پرامن انداز میں حل کرنے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا، جبکہ انہوں نے سعودی عرب کے مؤقف کو تعمیری قرار دیا۔







