لاہور( پاک تر ک نیوز) اسمارٹ فون آج کے دور کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے، تاہم پاکستان میں نئے اور استعمال شدہ موبائل فونز کی خریداری کے دوران دھوکا دہی، جعلی پرزوں، غیر رجسٹرڈ ڈیوائسز اور ریفربشڈ فونز کی فروخت جیسے مسائل صارفین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف خوبصورت ڈیزائن یا زیادہ میگا پکسل والے کیمرے کو دیکھ کر فون خریدنے کے بجائے چند اہم تکنیکی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق فون خریدنے سے پہلے سب سے پہلے اپنی ضرورت اور بجٹ کا تعین کریں۔ اگر فون صرف کالز، سوشل میڈیا اور روزمرہ استعمال کے لیے درکار ہے تو درمیانے درجے کا فون کافی ہو سکتا ہے، جبکہ گیمنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ یا پروفیشنل فوٹوگرافی کے لیے طاقتور پروسیسر، زیادہ ریم، بہتر گرافکس اور جدید کیمرہ سسٹم والا فون منتخب کرنا چاہیے۔
فون کی کارکردگی کا انحصار اس کے پروسیسر پر ہوتا ہے، اس لیے جدید اسنیپ ڈریگن، میڈیا ٹیک ڈائمینسٹی یا دیگر نئی چپ سیٹس والے فون کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اسی طرح کم از کم 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر انتخاب سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خریداری سے قبل فون کی اسکرین، بیٹری، چارجنگ اسپیڈ، کیمرہ، اسپیکر، مائیکروفون، فنگر پرنٹ سینسر، فیس ان لاک، وائی فائی، بلوٹوتھ اور دیگر تمام فیچرز کو عملی طور پر ضرور چیک کیا جائے، خصوصاً اگر فون استعمال شدہ ہو۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان میں غیر پی ٹی اے منظور شدہ فونز، پیچ شدہ ڈیوائسز اور ریفربشڈ فونز بھی نئے فون کے طور پر فروخت کیے جاتے ہیں۔ صارفین کو چاہیے کہ خریداری سے پہلے *#06# ملا کر فون کا آئی ایم ای آئی نمبر حاصل کریں اور اس کی تصدیق کریں۔ اس کے علاوہ فون، باکس اور سسٹم میں موجود آئی ایم ای آئی نمبرز ایک جیسے ہونے چاہیں۔
یہ بھی پڑھیں:موبائل فون کی لت کتنی خطرناک؟
ماہرین کے مطابق استعمال شدہ فون خریدتے وقت اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے کہ فون کھولا تو نہیں گیا، اس کی اسکرین یا بیٹری تبدیل تو نہیں ہوئی، پانی لگنے کے آثار تو موجود نہیں، اور تمام پیچ اپنی اصل حالت میں ہیں۔ اصل چارجر، باکس، وارنٹی کارڈ اور خریداری کی رسید بھی فون کی اصلیت کی اہم نشانیاں ہیں۔
انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ غیر معروف افراد یا سوشل میڈیا پر مشکوک اشتہارات کے ذریعے مہنگے موبائل فون خریدنے سے گریز کریں اور ہمیشہ مستند موبائل ڈیلرز یا معروف مارکیٹوں سے خریداری کریں تاکہ بعد میں کسی قانونی یا تکنیکی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چند منٹ کی احتیاط نہ صرف ہزاروں روپے کے نقصان سے بچا سکتی ہے بلکہ صارفین کو جعلی، چوری شدہ یا ناقص موبائل فون خریدنے کے خطرے سے بھی محفوظ رکھ سکتی ہے۔








