لاہور( پاک ترک نیوز) ڈیجیٹل دور نے جہاں سہولتیں دی ہیں، وہیں جرائم کی نئی شکلیں بھی سامنے آئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ای چالان” کے نام پر ہونے والا ڈیجیٹل فراڈ بھی سامنے آ گیا ۔ شہریوں کو موبائل فون پر جعلی ایس ایم ایس بھیج کر نہ صرف گمراہ کیا جا رہا ہے بلکہ ان کی محنت کی کمائی بھی لمحوں میں لوٹی جا رہی ہے۔
یہ فراڈ نہایت چالاکی سے کیا جا رہا ہے۔ نوسرباز مختلف موبائل نمبرز سے شہریوں کو ایسے پیغامات بھیجتے ہیں جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کا ٹریفک چالان بقایا ہے۔ ساتھ ہی ایک لنک دیا جاتا ہے، جس پر کلک کرتے ہی صارف ایک جعلی ویب سائٹ پر پہنچ جاتا ہے۔ وہاں اس سے بینک اکاؤنٹ، اے ٹی ایم کارڈ یا دیگر حساس معلومات طلب کی جاتی ہیں، اور یوں چند منٹوں میں اس کا مالی نقصان ہو جاتا ہے۔
حکومت اور سیف سٹی حکام نے شہریوں کو خبردار کر دیا ہے ،۔ ترجمان سیف سٹی کے مطابق ای چالان کے تمام سرکاری پیغامات صرف “9915” نمبر سے بھیجے جاتے ہیں، ان پیغامات میں کبھی بھی کوئی لنک شامل نہیں ہوتا۔ سرکاری ادارے کسی بھی صورت ایس ایم ایس کے ذریعے آن لائن ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرتے۔
ہر شہری کو ذہن نشین کرنا چاہیے۔ اگر “9915” سے آنے والے کسی پیغام میں لنک موجود ہو یا آپ سے بینک معلومات طلب کی جائے، تو سمجھ لیں کہ یہ جعلسازی ہے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر احتیاط برتنا ہی نقصان سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔
سیف سٹی حکام نے نہ صرف شہریوں کو آگاہ کیا ہے بلکہ ٹیلی کمیونیکیشن سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی الرٹ کر دیا ہے تاکہ اس قسم کے فراڈ کو روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی جعلی ویب سائٹس بنانے اور شہریوں کو دھوکہ دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائیاں بھی تیز کر دی گئی ہیں، جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔
تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف حکومتی اقدامات کافی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل فراڈ سے بچاؤ میں سب سے اہم کردار خود شہریوں کا ہے۔ جب تک عوام میں شعور اور احتیاط پیدا نہیں ہوگی، ایسے عناصر نئے نئے طریقے اختیار کرتے رہیں گے۔
شہریوں کو چاہیے کہ کسی بھی مشکوک لنک پر کلک کرنے سے گریز کریں، غیر مصدقہ ویب سائٹس پر ادائیگی نہ کریں، اور اپنی ذاتی یا بینکاری معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ ای چالان کی تصدیق ہمیشہ سرکاری ویب سائٹ سے کریں اور ادائیگی صرف e-Pay پنجاب ایپ کے ذریعے PSID بنا کر کریں۔ اگر کسی کو شک ہو تو فوری طور پر ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے آپشن 6 کے ذریعے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
یہ معاملہ محض ایک فراڈ کا نہیں بلکہ ہمارے ڈیجیٹل رویوں کا بھی امتحان ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی جتنی فائدہ مند ہے، اتنی ہی خطرناک بھی ہو سکتی ہے اگر اسے بغیر سوچے سمجھے استعمال کیا جائے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ محتاط رہنا ہی محفوظ رہنا ہے۔ ایک لمحے کی غفلت مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ تھوڑی سی آگاہی اور احتیاط ہمیں بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔







