لاہور( پاک ترک نیوز) ناظرین، مصنوعی ذہانت یا اے آئی اب صرف موبائل فونز، کمپیوٹرز اور چیٹ بوٹس تک محدود نہیں رہی بلکہ زراعت کے شعبے میں بھی حیران کن نتائج دے رہی ہے۔ اب یہی جدید ٹیکنالوجی کھجور کے لاکھوں درختوں کو خطرناک بیماری سے بچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں کھجور کے درختوں کا سب سے بڑا دشمن ریڈ پام ویول نامی کیڑا سمجھا جاتا ہے۔ یہ درخت کے اندر خاموشی سے اپنی افزائش کرتا ہے اور اسے اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں جب کسانوں کو اس کا علم ہوتا ہے، تب تک درخت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔
اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے اردن کے ایک انجینئر نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک جدید اور پیٹنٹ شدہ AI-Acoustics سسٹم تیار کیا ہے، جو کھجور کے درختوں سے آنے والی نہایت باریک آوازوں کا تجزیہ کرکے کیڑے کی موجودگی ابتدائی مرحلے میں ہی شناخت کر لیتا ہے۔
اس جدید نظام کو تیار کرنے کے لیے حقیقی کھجور کے باغات سے سات لاکھ منٹ سے زیادہ آڈیو ریکارڈنگ جمع کی گئی، جس کے ذریعے اے آئی کو مختلف آوازوں کی پہچان سکھائی گئی اور اس کی درستگی میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈائنوسار کیسے ختم ہوئے؟ 6 کروڑ 60 لاکھ سال پرانا معمہ حل
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نقصان ظاہر ہونے سے پہلے ہی خطرے کی نشاندہی کر دیتی ہے، جس سے کسان فوری کارروائی کرکے درختوں کو بچا سکتے ہیں اور فصل کے بڑے نقصان سے محفوظ رہتے ہیں۔
اس منصوبے کے خالق کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف ایک جدید اے آئی سسٹم بنانا نہیں تھا بلکہ ایسا عملی حل پیش کرنا تھا جو دنیا بھر کے کھجور کے کاشتکاروں کی پیداوار، روزگار اور آمدنی کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر استعمال کی گئی تو مستقبل میں لاکھوں کھجور کے درختوں کو تباہی سے بچایا جا سکے گا اور زرعی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا ایک نیا باب کھلے گا۔







