ڈھاکہ ( پاک تر ک نیوز) بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف تین ججز پر مشتمل ٹربیونل نے فیصلہ سنایا، جسٹس ایم ڈی غلام مرتضیٰ نے شیخ حسینہ واجد کیخلاف فیصلہ پڑھ کر سنایا۔
یاد رہے کہ استغاثہ (پراسیکیوشن) نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ شیخ حسینہ کو سزائے موت دی جائے، کیونکہ ان پر چودہ سو افراد کے قتل کا سنگین الزام ہے۔
یہ مقدمہ بنگلادیش کی خصوصی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں چلایا گیا اور آج اس مقدمے کا فیصلہ ملک بھر کے ٹی وی چینلز پر براہِ راست دکھایا گیا تاکہ عوام خود عدالتی کارروائی سے آگاہ رہ سکیں۔
انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں 80 سے زائد افراد نے گواہی دی، جن میں سے 54 افراد وہ ہیں جو پُرتشدد مظاہروں میں زندہ بچ گئے تھے، مقدمے میں دس ہزار صفحات پر مشتمل دستاویزات جمع کرائے گئے۔
واضح رہے کہ 78سالہ شیخ حسینہ واجد گزشتہ برس ہوئے طلبہ کے مظاہروں پر سخت کریک ڈاؤن کے الزام میں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں ٹرائل کا سامنا کر رہی ہیں وہ خود عدالت میں موجود نہیں تھیں، وہ کسی بھی الزام کو تسلیم نہیں کرتیں اور اگست 2024 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے بھارت میں مقیم ہیں۔












