تہران: (پاک ترک نیوز) آبنائے ہرمزدنیا کی وہ تنگ مگر انتہائی اہم گزرگاہ جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 40 فیصد ترسیل گزرتی ہے۔ اور اب یہی مقام عالمی طاقتوں کے اعصاب پر سوار ہو چکا ہے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے خلیج میں اپنے بحری بیڑے کی موجودگی بڑھا دی ہے۔ ادھر چین اور روس نے بھی مشترکہ بحری سرگرمیاں شروع کر دی ہیں جنہیں باضابطہ طور پر “میری ٹائم سیکیورٹی” مشقوں کا نام دیا جا رہا ہے۔
تاہم مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس سال کی مشقیں روایتی نوعیت سے ہٹ کر زیادہ جنگی تیاریوں پر مرکوز ہیں۔
چین نے اس مقصد کے لیے اپنا 48واں فلوٹیلا روانہ کیا ہے، جس میں گائیڈڈ میزائل بردار جہاز، انٹرسپٹر کشتیاں اور جدید دفاعی نظام شامل ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جہاز نہ صرف آنے والے میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ جوابی کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق چین نے اپنے بھاری بردار جہازوں کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔روس بھی اس منظرنامے میں پیچھے نہیں۔
اس کے جنگی جہاز بھی خلیج کی سمت بڑھ رہے ہیں، جس سے خطے میں عسکری توازن مزید حساس ہو گیا ہے۔ آبنائے ہرمز، جو Strait of Hormuz کے نام سے جانی جاتی ہے، عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔
یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور روس ایران کو تنہا چھوڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، کیونکہ توانائی اور دفاعی تعاون تینوں ممالک کے اسٹریٹجک مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ اگر صورتحال بگڑتی ہے تو یہ محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔اب سوال یہ ہے: کیا یہ طاقت کا مظاہرہ ہے یا آنے والے بڑے تصادم کا پیش خیمہ؟












