بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے چالیس روز کے لیے فضائی حدود سیل کر دی ،امریکہ ،جاپان ،جنوبی کوریا کے لیے خطرےکی گھنٹی بج گئی ، کیا بیجنگ بڑی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے؟
ناظرین! ایشیا میں ایک خاموش مگر خطرناک پیش رفت سامنے آئی ہے،چین نے اچانک 40 دن کے لیے ایک ایسا فضائی علاقہ بند کر دیا ہے جو سائز میں تائیوان سے بھی بڑا ہے۔
کوئی مشق، کوئی اعلان نہیں… تو آخر بیجنگ کیا چھپا رہا ہے؟رپورٹس کے مطابق چین نے بحیرہ زرد کے قریب وسیع فضائی حدود کو چھ مئی کےلیے بند کیا ہے ۔
یہ پابندی اتنی بڑی ہے کہ اس کا رقبہ تائیوان کے مرکزی جزیرے سے بھی زیادہ بتایا جا رہا ہے، جس نے جاپان، جنوبی کوریا اور امریکہ کے دفاعی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔فضائی حدود زمین سے لے کر لامحدود بلندی تک بند ہے۔جس کا دورانیہ چالیس دن کا ہے اور کسی بھی قسم کی فوجی مشق کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔ عام طور پر ایسی پابندیوں کے ساتھ لائیو فائر ڈرلز، میزائل ٹیسٹ یا خطرناک سرگرمیوں کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن اس بار چین نے کوئی وضاحت نہیں دی۔سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ:ماہرین اسے محض مشق نہیں بلکہ طویل المدتی فوجی تیاری قرار دے رہے ہیں۔
یہ فضائی حدود اگرچہ تائیوان سے کچھ فاصلے پر ہے، لیکن اس کا رخ براہِ راست جاپان اور جنوبی کوریا کی طرف ہے جو امریکا کے قریبی اتحادی ہیں ۔یعنی چین نے ایک طرح سے ان دونوں ممالک کے اوپر خاموش فوجی دباؤ قائم کر دیا ہے۔ممکنہ مقاصد کیا ہیں؟
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام چین کی جانب سے مستقبل کی جنگی حکمت عملی کی مشق ہو سکتا ہے، خاص طور پر فضائی جنگی آپریشنز کے لیے۔کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اس وقت مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا فائدہ اٹھا رہا ہے، کیونکہ عالمی توجہ وہاں مرکوز ہے۔اسی دوران بیجنگ ایشیا میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے
ابھی تک کسی سول فلائٹ کو براہِ راست نقصان نہیں پہنچا، لیکن ایئرلائنز کو اس وسیع پابندی والے علاقے کے گرد انتہائی احتیاط کے ساتھ پروازیں چلانا پڑ رہی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ایک خاموش مشق ہے جو بڑے تصادم کا آغاز ؟
ایشیا میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور اور چین کا یہ قدم ایک نئی جیو پولیٹیکل گیم کا اشارہ دے رہا ہے۔












