تہران/بیجنگ : (پاک ترک نیوز)خبریں گردش کر رہی ہیں کہ چین دنیا کے پہلے کمپیکٹ ہائی پاور مائیکرو ویو ہتھیار ایران کو منتقل کر سکتا ہے، جو اسٹارلنک سیٹلائٹس، حتیٰ کہ خلائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
لیکن کیا یہ حقیقت ہے یا محض پروپیگنڈا؟سوچیے۔ اگر واقعی ایسا ہتھیار ایران کو مل گیا تو خطے میں طاقت کا توازن بدل جائے گا۔
ماہرین کے مطابق ہائی پاور مائیکرو ویو سسٹمز الیکٹرانک آلات کو جام یا تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جدید جنگوں میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن، ڈرون نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل کمانڈ سسٹمز ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اگر یہ نظام متاثر کن ہوں تو میدانِ جنگ کا نقشہ ہی بدل سکتا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔
نہ چین نے باضابطہ اعلان کیا ہے اور نہ ہی ایران کی جانب سے ایسی کسی منتقلی کی توثیق سامنے آئی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے ہتھیاروں کی تیاری اور موثر تعیناتی ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہے، جس کے لیے وسیع ٹیکنالوجی اور عملی تجربات درکار ہوتے ہیں۔
اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو خلیج، بحیرہ عرب اور خلائی محاذ سب اہم بن سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک نئی ٹیکنالوجیکل وار کے دہانے پر کھڑی ہے؟
یا یہ صرف نفسیاتی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے؟ حقیقت جو بھی ہو، ایک بات طے ہے: مستقبل کی جنگیں روایتی میزائلوں سے زیادہ الیکٹرانک اور خلائی محاذوں پر لڑی جائیں گی۔ اور اگر سپر پاورز براہِ راست آمنے سامنے آئیں تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔












