بیجنگ : (پاک ترک نیوز)سمندر کی گہرائیوں میں ایک خاموش طوفان برپا ہو چکا ہے اور اس طوفان کا نام ہے۔ چین۔ وہ چین جسے کبھی صرف ایک زمینی طاقت سمجھا جاتا تھا، آج دنیا کی دوسری سب سے بڑی نیوکلیئر آبدوز فلیٹ کا مالک بن چکا ہے۔
یہ صرف تعداد کا کھیل نہیں۔ یہ طاقت، اسٹریٹجی اور مستقبل کی جنگوں کا نیا نقشہ ہے۔امریکا اب بھی تقریباً 71 نیوکلیئر آبدوزوں کے ساتھ پہلے نمبر پر موجود ہے، لیکن چین روس کو پیچھے چھوڑ کر 32 نیوکلیئر سبمرینز کے ساتھ دوسرے نمبر پر آ کھڑا ہوا ہے۔
اس نے عالمی طاقتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔چین کی Type 093 آبدوزیں خاموشی سے سمندر کی تہہ میں سفر کرتی ہیں۔ ایسی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے ساتھ جو دشمن کے ریڈار کو چکمہ دے سکتی ہے۔
اور اب اگلا مرحلہ Type 096 بیلسٹک میزائل سبمرین ہے۔ ایک ایسا سسٹم جو چین کو مسلسل اور ناقابلِ شکست نیوکلیئر ڈیٹرنس فراہم کرے گا۔
روس 29 آبدوزوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر چلا گیا ہے، جبکہ برطانیہ اور فرانس کی فلیٹس محدود ہو چکی ہیں۔ دوسری طرف بھارت بھی اپنی آبدوزوں کے ذریعے سمندر میں نیوکلیئر طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، مگر رفتار صرف چین کی ہے۔
یہ صرف آبدوزیں نہیں۔ یہ ایک پیغام ہے کہ آنے والی سپر پاور صرف زمین یا خلا میں نہیں، بلکہ سمندر کی گہرائیوں میں اپنی حکمرانی قائم کرے گی۔
آسٹریلیا اور برازیل ابھی منصوبے بنا رہے ہیں لیکن چین پہلے ہی گیم بدل چکا ہے۔سوال یہ ہے : کیا دنیا ایک نئی انڈر سی کولڈ وار میں داخل ہو چکی ہے؟ اور کیا چین کی یہ خاموش طاقت عالمی طاقت کا توازن ہمیشہ کیلئے بدل دے گی؟












