مراکو ( پاک ترک نیوز) مراکش کے مطابق 14 اگست 1979 کو موریطانیہ کی افواج کے انخلا کے بعد وادی الذهب باضابطہ طور پر مراکش کے انتظام میں آگیا تھا۔ مراکش اس دن کو اپنی علاقائی سالمیت کی جدوجہد میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتا ہے۔
مراکش میں ہسپانوی نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد 1975 میں مغربی صحارا کو مراکش اور موریطانیہ کے درمیان تقسیم کیا گیا تھا۔ بعد ازاں موریطانیہ کے انخلا کے بعد علاقے میں مراکش کا کنٹرول قائم ہوگیا۔
14 اگست 1979 کو وادی الذهب کے قبائلی رہنماؤں اور نمائندوں نے دارالحکومت رباط پہنچ کر مراکش کے آنجہانی بادشاہ حسن دوم سے وفاداری کا اظہار کیا تھا۔
تاہم مغربی صحارا کی حیثیت آج بھی متنازع ہے۔ پولیساریو فرنٹ صحراوی عوام کے لیے آزادی اور ایک آزاد ریاست کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ مراکش پورے علاقے کو اپنی خودمختاری کا حصہ قرار دیتا ہے۔
پولیساریو فرنٹ کو پڑوسی ملک الجزائر کی حمایت حاصل ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں 1991 میں جنگ بندی کے باوجود علاقے کے مستقبل کے بارے میں حتمی سیاسی حل آج تک سامنے نہیں آسکا۔
مراکش کے مؤقف کو حالیہ عرصے میں بعض ممالک کی حمایت سے سفارتی تقویت بھی ملی ہے۔ کولمبیا نے بھی مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے مراکش کے مطابق اس کے مؤقف کو مزید تقویت ملی ہے۔
امریکا اور فرانس بھی مراکش کی جانب سے پیش کردہ خودمختاری کے منصوبے کو مغربی صحارا کے تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ اور قابلِ عمل بنیاد قرار دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لیبیا میں روس کے 6ایئربیسز پر جنگی طیارے، ڈرونز اور دفاعی نظام تعینات
ادھر مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے بھی رواں ہفتے تخت نشینی کے 27 سال مکمل کیے ہیں۔ ان کے دور میں مراکش نے تجارت، صنعت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں اہم پیش رفت کی ہے۔
مراکش کے لیے وادی الذهب کی 47ویں سالگرہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ مغربی صحارا پر اپنے دعوے اور علاقائی اثر و رسوخ کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع بھی ہے۔







