لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا کے سرد ترین خطے میں روسی سائنس دانوں نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جسے جدید سائنس کی حیران کن کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تقریباً 23 سال تک جاری رہنے والی کھدائی کے بعد سائنس دان 2012 میں برف کے تقریباً چار کلومیٹر نیچے موجود ایک پراسرار جھیل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جو کم از کم ڈیڑھ کروڑ سال سے دنیا سے کٹی ہوئی تھی۔
یہ جھیل، جسے جھیل ووستوک کہا جاتا ہے، انٹارکٹیکا کے برفانی غلاف کے نیچے 3 ہزار 769 میٹر گہرائی میں واقع ہے۔ جھیل کا رقبہ کینیڈا کی مشہور جھیل اونٹاریو کے قریب قریب ہے اور اسے انٹارکٹیکا کی سب سے بڑی زیرِبرف جھیل قرار دیا جاتا ہے۔
5 فروری 2012 کو روسی ووستوک اسٹیشن پر سائنس دانوں نے جب برف کی آخری تہہ کو عبور کیا تو ایک حیران کن منظر سامنے آیا۔ جھیل کا پانی، جو تقریباً چار کلومیٹر موٹی برف کے دباؤ کے باعث انتہائی بلند دباؤ میں موجود تھا، اچانک ڈرلنگ کے سوراخ میں اوپر کی جانب اُبل پڑا۔
پانی تقریباً 30 سے 40 میٹر اوپر آیا، لیکن شدید سردی کے باعث فوری طور پر جم گیا اور خود ہی ایک برفانی پلگ بنا کر سوراخ کو دوبارہ بند کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روسی ماہرین نے پہلے ہی اس صورتحال کی پیش گوئی کر رکھی تھی اور پورا منصوبہ اسی انداز میں ترتیب دیا گیا تھا۔
سائنس دانوں نے اس مقام پر 1989 میں برف کی گہری تہوں کی کھدائی شروع کی تھی۔ ابتدائی مقصد زمین کے قدیم موسمی حالات کا مطالعہ تھا، تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ برف کے نیچے ایک دیوہیکل جھیل موجود ہے جس نے اس منصوبے کو عالمی سائنسی تحقیق کا مرکز بنا دیا۔
جھیل ووستوک تقریباً 250 کلومیٹر لمبی اور 50 کلومیٹر چوڑی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس کا پانی منجمد نہیں ہوا، حالانکہ سطح پر درجہ حرارت منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں مذہبی امور کا محکمہ ختم
ماہرین کے مطابق برف کا بے پناہ وزن جھیل کے پانی پر تقریباً 350 گنا فضائی دباؤ پیدا کرتا ہے، جبکہ زمین کے اندرونی حصے سے آنے والی حرارت پانی کو مائع حالت میں برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس دریافت کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ جھیل ووستوک گزشتہ 15 سے 34 ملین سال سے مکمل طور پر بیرونی دنیا سے الگ تھلگ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس جھیل میں زندگی موجود ہے تو وہ زمین کے دیگر جانداروں سے بالکل مختلف انداز میں ارتقا پذیر ہوئی ہوگی۔






