لندن ( پاک ترک نیوز) برطانیہ کے سینئر سیاستدان رکن پارلیمنٹ لارڈ گولڈ سمتھ کی جانب سے امداد کو بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے جیل میں حالات سے جوڑنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے ۔
سینئر برطانوی سیاستدانوں برطانوی رکن لارڈ گولڈ سمتھ نے سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی حالت زار کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتے ہوئے اس صورت حال کو تجارت اور امداد کے ساتھ جوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی رکن کا پارلیمنٹ کے اجلاس میں کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ عمران خان کو وکلا، خاندان اور ان کے دو بیٹوں حتیٰ کہ ڈاکٹروں تک بھی رسائی نہیں دی جا رہی۔ ہم جانتے ہیں کہ عمران خان نے بہت سا وقت جیل میں قید تنہائی میں گزار چکے ہیں اور ان کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ پاکستان کے لیے اپنی امداد پر نظر ثانی کرے اس وقت تک کہ جب پاکستان آزاد عدلیہ اور قانون کی عملداری کے حوالے سے عہد پورا نہ کرے۔‘
لارڈ گولڈ سمتھ کی تقریر کے جواب میں برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی بیرونس چیپ مین کا کہنا تھا کہ بلاشہ پاکستان میں عدالتی کارروائی اس کا معاملہ ہے ۔ تاہم پاکستانی حکام کی طرف سے بنیادی آزادیوں کا احترام کرنے کی ضرورت ہے جن میں مقدمے کی انصاف پر مبنی کارروائی، قانونی تقاضے، دوران حراست انسانی سلوک اور مناسب علاج تک رسائی شامل ہے۔ یہ حق تمام پاکستانی شہریوں اور عمران خان کا بھی ہے۔ برطانوی وزرا اور حکام نے پاکستانی آئین پر عمل کی ضرورت اور انسانی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کا معاملہ باقاعدگی سے پاکستانی ہم منصب افراد کے ساتھ اٹھایا ہے۔
درالامرا کے رکن لارڈ محمد نے کہا پاکستان میں سابق وزرائے اعظم کو قید کرنے کی تاریخ ہے۔ خواہ وہ ذوالفقار علی بھٹو ہوں یا نواز شریف۔ نواز شریف کے معاملے میں برطانوی حکومت نے انہیں نومبر 2919 ء میں علاج کے لیے برطانیہ آنے کی اجازت دی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر عمران خان کے خاندان یا پارٹی ارکان نے ایسی ہی درخواست تو برطانوی حکومت کا جواب کیا ہوگا؟
اس سوال پر بیرونس چیپ مین کا کہنا تھا وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتیں۔ یہ معاملہ امیگریشن پالیسی کے مطابق ہوم آفس دیکھنا چاہے گا۔












