لاہور (پاک ترک نیوز )لاہور کے شہریوں کے لیے ایک نیا ماہانہ مالی بوجھ تیار، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اپنی تین رہائشی اسکیموں میں صفائی، سیکیورٹی اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے ماہانہ مینٹیننس فیس عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ رہائشی جائیدادوں کے لیے فیس ڈھائی ہزار سے تین ہزار روپے ماہانہ جبکہ تجارتی جائیدادوں کے لیے تقریباً پانچ سے چھ ہزار روپے یا اس سے زائد مقرر کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے گورننگ باڈی اجلاس میں 19 اگست 2026 کو مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری کے ساتھ تین رہائشی اسکیموں میں مینٹیننس فیس کے آزمائشی منصوبے کی بھی منظوری دی گئی تھی۔ اس منصوبے کے تحت رہائشیوں کو پہلے دو ماہ سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی، جس کے بعد فیس کی وصولی شروع ہوگی۔
منصوبے میں ایل ڈی اے ایونیو ون، جوبلی ٹاؤن اور ایل ڈی اے انکلیو کو شامل کیا گیا ہے۔ فیس کا تعین پلاٹ کے رقبے کے مطابق کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق تین اور پانچ مرلے کے رہائشی پلاٹوں کے لیے تقریباً ڈھائی ہزار روپے ماہانہ جبکہ سات، دس مرلے اور ایک کنال کے گھروں کے لیے تین ہزار روپے ماہانہ وصول کیے جائیں گے۔ تجارتی جائیدادوں کے مالکان کو پانچ سے چھ ہزار روپے یا اس سے زائد ماہانہ ادا کرنا پڑسکتے ہیں۔
اس حساب سے پانچ مرلے تک کے گھرانے کو سالانہ تقریباً 30 ہزار روپے جبکہ بڑے رہائشی پلاٹ کے مالک کو 36 ہزار روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔ تجارتی جائیدادوں کے لیے سالانہ فیس 60 ہزار روپے سے تجاوز کرسکتی ہے۔
ایل ڈی اے کے مطابق اس فیس کے ذریعے رہائشی علاقوں میں سیکیورٹی، صفائی، کوڑا اٹھانے، گرین بیلٹس کی دیکھ بھال اور سڑکوں کی مرمت سمیت دیگر بلدیاتی خدمات فراہم کی جائیں گی۔
تاہم اس فیصلے پر شہریوں کی جانب سے اضافی مالی بوجھ اور پہلے سے ادا کیے جانے والے ٹیکسوں کے ساتھ ممکنہ دوہری وصولی کے خدشات سامنے آرہے ہیں۔ رہائشی پہلے ہی پراپرٹی ٹیکس، پلاٹ کی ترقیاتی لاگت اور پنجاب حکومت کے صفائی سے متعلق محصول سمیت مختلف واجبات ادا کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترک ایئرلائنز کا استنبول سے سڈنی تک نیا طویل فضائی روٹ شروع
دوسری جانب اس فیس کو واسا کے پانی کے بلوں کے ذریعے وصول کرنے کی خبریں بھی گردش کررہی ہیں، تاہم دستیاب سرکاری معلومات میں تاحال اس طریقہ کار کی تصدیق نہیں ہوئی۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ فیس ادا نہ کرنے کی صورت میں پانی کا کنکشن منقطع کیا جاسکے گا یا نہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ ادائیگی سے پہلے اتھارٹی سے تحریری طور پر قانونی بنیاد، فیس کی شرح اور وصولی کا طریقہ معلوم کریں۔
اہم بات یہ ہے کہ منظور شدہ آزمائشی منصوبے میں جوہر ٹاؤن شامل نہیں۔ فی الحال صرف ایل ڈی اے ایونیو ون، جوبلی ٹاؤن اور ایل ڈی اے انکلیو کے نام سامنے آئے ہیں، جبکہ دیگر اسکیموں تک اس نظام کی توسیع کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔












